ہندوستان کی مسابقت کے لیے سازگار اصلاحات میں بڑی چھلانگ، عالمی درجہ بندی میں 82 ویں سے 57 ویں مقام پر
ہندوستان کی مسابقت کے لیے سازگار اصلاحات میں بڑی چھلانگ، عالمی درجہ بندی میں 82 ویں سے 57 ویں مقام پر نئی دہلی، 30 جولائی (ہ س)۔ ہندوستان نے ساختی اور مسابقت کے لیے سازگار اصلاحات کے معاملے میں نمایاں بہتری حاصل کی ہے۔ عالمی درجہ بندی میں ہندوستان
ساختی اور مسابقت کے لیے سازگار اصلاحات کی علامتی تصویر


ہندوستان کی مسابقت کے لیے سازگار اصلاحات میں بڑی چھلانگ، عالمی درجہ بندی میں 82 ویں سے 57 ویں مقام پر

نئی دہلی، 30 جولائی (ہ س)۔ ہندوستان نے ساختی اور مسابقت کے لیے سازگار اصلاحات کے معاملے میں نمایاں بہتری حاصل کی ہے۔ عالمی درجہ بندی میں ہندوستان نے 25 پوزیشن کی نمایاں پیش رفت حاصل کرتے ہوئے 82 ویں سے 57 ویں مقام پر پہنچ گیا ہے۔ وزارتِ تجارت و صنعت نے جمعرات کے روز جاری کردہ بیان میں بتایا کہ یہ معلومات ’کمپیٹیرے فاؤنڈیشن‘ کی رپورٹ ’’ہندوستان کی ترقی کا اگلا محاذ: ہندوستان کی2023-2010 کی اصلاحاتی پیشرفت پرمبنی مسابقتی مخالف مارکیٹ کی رکاوٹوں کو کم کرنا‘ کے ذریعے سامنے آئی ہیں۔ یہ سال 2010 اور سال 2023 کے درمیان ساختی اور مسابقت کے لیے سازگار اصلاحات میں ہونے والی بڑی پیش رفت کو ظاہر کرتا ہے۔

وزارت نے بتایا کہ کمپیٹیرے فاونڈیشن کی رپورٹ ’’انڈیاز نیکسٹ گروتھ فرنٹیئر: ریڈیوسنگ اینٹی-کمپیٹیٹو مارکیٹ ڈسٹورشنس ٹو بلڈ آن انڈیاز 2023-2010 ریفارم پروگریس‘‘ کے مطابق ہندوستان گلوبل رینکنگ میں 82 ویں سے 57 ویں مقام پر آ گیا ہے۔ یہ سال 2010 اور سال 2023 کے درمیان ساختی اور مسابقت کے لیے سازگار اصلاحات میں ہونے والی بڑی پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے۔

وزارت تجارت کے مطابق یہ رپورٹ ’مارکیٹ ڈسٹورشنس پرفارمنس انڈیکس‘ کے تحت ہندوستان کی کارکردگی کا جائزہ لیتی ہے، جس میں سال 2010 سے سال 2023 کے درمیان ملک کی اصلاحات کے رخ کا تجزیہ کیا گیا ہے اور مارکیٹ کی رکاوٹوں کو کم کرنے نیز مسابقت کو مضبوط بنانے کی مسلسل کوششوں کو اس بہتری کا سہارا دیتی ہے۔

یہ رپورٹ سینٹر فار ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ لاء (سی ٹی آئی ایل)، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف فارن ٹریڈ (آئی آئی ایف ٹی) نئی دہلی کی جانب سے انڈیا ہیبی ٹیٹ سینٹر، نئی دہلی میں ’کمپیٹیرے فاونڈیشن فار ٹریڈ اینڈ کمپٹیشن پالیسی‘ کے تعاون سے منعقدہ ’’انڈیاز ریفارم ٹریجیکٹری، مارکیٹ ڈسٹورشنس اینڈ دی نیکسٹ فرنٹیئر فار گروتھ اینڈ کمپیٹیٹو نیس‘‘ کے عنوان پر ہونے والے ایک مباحثے کے دوران جاری کی گئی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande