ای-20 ایتھنول ملاوٹ شدہ پٹرول سائنسی تصدیق اور وسیع مشاورت کے بعداستعمال کیا گیا: حکومت
نئی دہلی، 30 جولائی (ہ س) — ای-20 ایتھنول ملاوٹ شدہ پٹرول کے استعمال کو لے کر جاری بحث کے درمیان مرکزی حکومت نے ایک بار پھر اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ ای-20 پٹرول کا استعمال سائنسی تصدیق اور تمام متعلقہ فریقوں سے وسیع مشاورت کے بعد کیا گی
E20-rollout-based-on-scientific-validation-and-ext


نئی دہلی، 30 جولائی (ہ س) —

ای-20 ایتھنول ملاوٹ شدہ پٹرول کے استعمال کو لے کر جاری بحث کے درمیان مرکزی حکومت نے ایک بار پھر اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ ای-20 پٹرول کا استعمال سائنسی تصدیق اور تمام متعلقہ فریقوں سے وسیع مشاورت کے بعد کیا گیا ہے۔

مرکزی وزیر مملکت برائے پیٹرولیم و قدرتی گیس سریش گوپی نے جمعرات کو لوک سبھا میں ایک تحریری سوال کے جواب میں بتایا کہ ایتھنول بلینڈڈ پٹرول (ای بی پی) پروگرام کو نیتی آیوگ، آٹوموبائل ساز کمپنیوں، سرکاری تیل مارکیٹنگ کمپنیوں، آٹوموٹو ریسرچ ایسوسی ایشن آف انڈیا (اے آر اے آئی)، سوسائٹی آف انڈین آٹوموبائل مینوفیکچررز (ایس آئی اے ایم)، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف پیٹرولیم (آئی آئی پی) اور دیگر تکنیکی اداروں کی شمولیت سے مرحلہ وار، سائنسی بنیادوں پر اور مشاورتی عمل کے ذریعے نافذ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ زیادہ ایتھنول ملاوٹ والے ایندھن کے نفاذ سے قبل آٹوموبائل ساز اداروں، ایس آئی اے ایم، اے آر اے آئی، پرزہ ساز کمپنیوں، جانچ ایجنسیوں اور تیل مارکیٹنگ کمپنیوں سے تفصیلی مشاورت کی گئی۔

گوپی نے کہا کہ اے آر اے آئی، ایس آئی اے ایم، انڈین آئل کارپوریشن لمیٹڈ، آئی آئی پی اور مختلف آٹوموبائل کمپنیوں کی جانب سے کیے گئے وسیع لیبارٹری مطالعات اور فیلڈ ٹرائلز میں انجن کی مضبوطی، کارکردگی، اسٹارٹ ہونے کی صلاحیت، زنگ سے تحفظ، مواد کی مطابقت، اخراج اور ایندھن کی بچت جیسے تمام اہم پہلوو¿ں کا جائزہ لیا گیا۔ ان تجربات سے اس بات کی تصدیق ہوئی کہ 20 فیصد ایتھنول اور 80 فیصد پٹرول پر مشتمل ای-20 مقررہ معیار کے مطابق استعمال کے لیے محفوظ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت کا جائزہ لیبارٹری تحقیق اور ملک گیر نفاذ کے بعد حاصل ہونے والے وسیع تجربات پر مبنی ہے۔ ملک میں روزانہ تقریباً آٹھ کروڑ گاڑیوں میں پٹرول پمپوں سے ایندھن بھرا جاتا ہے، جن میں تقریباً 80 فیصد پٹرول سے چلنے والی گاڑیاں شامل ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande