
نئی دہلی، 28 جولائی(ہ س)۔
مرکزی حکومت نے امتحانات میں پیپر لیک، نقل اور دیگر بے ضابطگیوں پر مؤثر روک لگانے کے لیے منگل کوپبلک امتحانات میں غلط طور طریقوں کی روک تھام ترمیمی بل 2026 لوک سبھا میں پیش کر دیا۔ وزیراعظم کے دفتر میں وزیرِ مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد 2024 میں نافذ کیے گئے قانون کو مزید مؤثر اور سخت بنانا ہے تاکہ طلبہ اور نوجوانوں کے مستقبل کا بہتر تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ پیپر لیک اور امتحانی بے ضابطگیوں کے واقعات کسی ایک ریاست یا حکومت تک محدود نہیں رہے۔ انہوں نے ریلوے بھرتی بورڈ، آل انڈیا انجینئرنگ انٹری امتحان، ایمس، تمل ناڈو پبلک سروس کمیشن، اتر پردیش بی ایڈ داخلہ امتحان اور مغربی بنگال مشترکہ داخلہ امتحان سمیت متعدد واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہی تجربات کی بنیاد پر 2024 میں جامع قانون بنایا گیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ موجودہ قانون یو پی ایس سی، ایس ایس سی، ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈ، آئی بی پی ایس اور نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) جیسے اداروں کے امتحانات پر نافذ ہے۔
وزیر مملکت نے کہا کہ نئے ترمیمی بل میں امتحانات میں ناجائز ذرائع استعمال کرنے والوں کے لیے کم از کم سزا تین سال سے بڑھا کر پانچ سال اور زیادہ سے زیادہ سزا دس سال تک کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسی طرح جرمانے کی زیادہ سے زیادہ حد 10 لاکھ روپے سے بڑھا کر 50 لاکھ روپے کرنے کی بھی تجویز ہے۔بل کے مطابق امتحانات کے انعقاد سے وابستہ اداروں، کمپنیوں، شراکتی فرموں، ٹھیکیداروں اور تکنیکی خدمات فراہم کرنے والوں کو بھی قانون کے دائرے میں شامل کیا جائے گا۔ اگر کوئی ادارہ قصوروار پایا گیا تو اس پر 5 کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا، جبکہ امتحانات کے انعقاد سے پابندی کی مدت چار سال سے بڑھا کر آٹھ سال کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ امتحان کے انعقاد پر آنے والے اخراجات بھی متعلقہ ادارے سے وصول کیے جائیں گے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ صرف نچلے درجے کے ملازمین کو سزا دینا کافی نہیں، اس لیے کمپنیوں کے ڈائریکٹروں اور اعلیٰ انتظامیہ کو بھی جواب دہ بنایا گیا ہے۔ ان کے لیے پانچ سے دس سال قید اور 5 کروڑ روپے تک جرمانے کی تجویز ہے، جبکہ اگر کسی منظم جرائم پیشہ گروہ یا مافیا کے ملوث ہونے کا ثبوت ملا تو جرمانہ 10 کروڑ روپے تک بڑھایا جا سکے گا۔انہوں نے بتایا کہ مقدمات کے جلد تصفیے کے لیے خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کی جائیں گی۔ تحقیقات دو ماہ کے اندر مکمل کرنا اور اس کے بعد تین ماہ کے اندر مقدمے کا فیصلہ کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اپیل صرف ہائی کورٹ کی ڈویژن بینچ میں مقررہ مدت کے اندر دائر کی جا سکے گی۔
وزیر مملکت نے کہا کہ امتحان کے نظام کو مکمل طور پر محفوظ اور پیپر لیک سے پاک بنانے کے لیے حکومت نے ایک اعلیٰ سطحی ٹاسک فورس تشکیل دی ہے، جس میں نندن نیلیکنی، سابق اسرو چیئرمین ایس سومناتھ، سابق ڈی آئی بی سربراہ تپن ڈیکا اور آئی آئی ٹی مدراس کے ڈائریکٹر وی کاماکوٹی سمیت تعلیم اور ٹیکنالوجی کے ماہرین شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ رادھا کرشنن کمیٹی کی 46 اہم سفارشات میں سے تقریباً 35 پر عمل درآمد ہو چکا ہے اور تمام سیاسی جماعتوں سے طلبہ کے مفاد میں اس ترمیمی بل کی حمایت کی اپیل کی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan