
نئی دہلی، 28 جولائی (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت فوجداری قوانین میں ’ڈیجیٹل اریسٹ‘ کے جرم کو تعریف (ڈیفائن) کر کے اسے ایک الگ جرم کے زمرے میں رکھے، جس میں سخت سزا کی تجویز ہو۔ چیف جسٹس سوریا کانت کی صدارت والی بنچ نے ڈیجیٹل اریسٹ سے نمٹنے کے لیے ازخود نوٹس درخواست پر سماعت کرتے ہوئے یہ تجویز دی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ایک بار پختہ ثبوت کی بنیاد پر کسی ملزم کے خلاف پہلی نظر میں الزام بنے، تو اس کی جائیداد ضبط کی جا سکتی ہے۔ اس پر مرکزی حکومت کی طرف سے پیش ہوئے اٹارنی جنرل آر وینکٹ رمنی نے کہا کہ بین الوزارتی کمیٹی (انٹر منسٹریل کمیٹی) اس پر تفصیلی رپورٹ تیار کر رہی ہے، تاکہ نظام کی خامیوں کو دور کیا جا سکے۔ سماعت کے دوران جسٹس باغچی نے کہا کہ اب ’ڈیپ فیک‘ ہمارے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ تب سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ حکومت ڈیپ فیک اور ڈیجیٹل اریسٹ جیسے معاملات سے نمٹنے کے لیے قانون لانے پر کام کر رہی ہے۔
سپریم کورٹ نے 17 اکتوبر 2025 کو ڈیجیٹل اریسٹ کی بڑھتی وارداتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ازخود نوٹس لیتے ہوئے مرکزی حکومت اور سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کو نوٹس جاری کیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ ڈیجیٹل اریسٹ کرنے کے لیے سپریم کورٹ، ہائی کورٹ کے احکامات اور ججوں کے دستخط کی جعل سازی کرنا عدالتی اداروں میں لوگوں کے اعتماد اور عقیدت پر سخت ضرب ہے۔
سپریم کورٹ نے امبالہ کے ایک بزرگ جوڑے کو ڈیجیٹل اریسٹ کر کے ان سے ایک کروڑ روپے سے زیادہ کی وصولی کرنے کے واقعے پر ازخود نوٹس لیا تھا۔ بزرگ جوڑے نے اس وقت کے چیف جسٹس بی آر گوئی کو خط لکھ کر اس جعل سازی کے بارے میں بتایا تھا۔ عدالت نے کہا تھا کہ یہ معاملہ کوئی واحد معاملہ نہیں ہے۔ اسے لے کر میڈیا میں کئی خبریں آ چکی ہیں۔ عدالت نے کہا تھا کہ عدالتی دستاویزات کی جعل سازی، بے قصور لوگوں اور خاص طور پر سینئر سٹیزنز سے زبردستی وصولی اور لوٹ مار سے متعلق مجرمانہ عمل کا پردہ فاش کرنے کے لیے مرکز اور ریاستوں کی پولیس کے درمیان تعاون کی ضرورت ہے۔
بزرگ جوڑے نے خط میں کہا تھا کہ 3 سے 16 ستمبر کے درمیان جوڑے کی گرفتاری اور نگرانی کی بات کرنے والا مہر لگا ایک جعلی عدالتی حکم پیش کیا گیا۔ اس کے بعد کئی بینک لین دین کے ذریعے ایک کروڑ روپے سے زیادہ کی دھوکہ دہی کی گئی۔ بزرگ خاتون کے مطابق کچھ لوگوں نے آڈیو اور ویڈیو کال کے ذریعے عدالت کے احکامات دکھائے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن