
گوہاٹی، 28 جولائی (ہ س)۔ آسام کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر ہمانتا بسوا سرما نے منگل کے روز کہا کہ ریاست میں سیلاب سے بچاو¿ اور راحت رسانی کی کارروائیوں کا دائرہ مسلسل بڑھایا جا رہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ متاثرہ لوگوں اور علاقوں کو بروقت امداد فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت 71 ہزار سے زیادہ افراد ریاست کے مختلف راحت کیمپوں میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ کی طرف سے جاری سیلاب کی تازہ ترین صورتحال کے مطابق، ریاست بھر میں 215 راحت رسانی سے متعلق کیمپ فعال ہیں، جن میں 71,223 افراد رہائش پذیر ہیں۔ اس کے ساتھی ہی متاثرہ افراد کو خوراک، پینے کا پانی اور دیگر ضروری اشیا فراہم کرنے کے لیے 1,690 امدادی مراکز بھی فعال ہیں۔
وزیر اعلیٰ کے مطابق، سیلاب سے ریاست کے 25 اضلاع، 77 ریونیو حلقے اور 2,157 گاوں متاثر ہوئے ہیں۔ اس قدرتی آفت سے اب تک 11.44 لاکھ سے زیادہ لوگ متاثر ہو ئے ہیں۔ سیلاب اور اس سے متعلقہ واقعات میں 68افراد ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ آٹھ تاحال لاپتہ ہیں۔ سیلاب سے 1,180 مکانات مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں جبکہ 9,926 کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔وہیں، تقریباً 29,983 افراد کو خطرے والے علاقوں سے نکال کر محفوظ علاقوں میں پہنچایا گیا ہے۔
اس دوران شیو ساگر ضلع سے راحت کی خبر سامنے آئی ہے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر ہمانتا سرما نے کہا کہ ضلع میں سیلاب کی صورتحال بتدریج بہتر ہو رہی ہے۔ بڑے دریاؤں کے پانی کی سطح مسلسل کم ہو رہی ہے، جس سے حالات معمول پر آنے کی امیدیں بڑھ رہی ہیں۔
محکمہ آبی وسائل کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، شیو ساگر ضلع میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 22.89 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ دیسانگ مکھ، جونسن، ڈیمو اور دیکھو سمیت اہم گیج اسٹیشنوں پر دریا کی سطح خطرے کے نشان سے نیچے ہے ۔ محکمہ نے اطلاع دی کہ 28 جولائی کی صبح 8 بجے تک، زیادہ تر مقامات پر پانی کی سطح پر کمی درج کی گئی تھی، جو سیلاب کی صورت حال میں بہتری کی نشاندہی کرتی ہے۔
تاہم انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مستعد رہیں اور مقامی انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے متاثرہ علاقوں میں راحت اور بچاؤ کی کارروائیاں جاری ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد