
نئی دہلی، 28 جولائی (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے کہا ہے کہدہلی میں جاری ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظر ثانی ( ایس آئی آر ) کے دوران انتخابی کمیشن اسکول کے اساتذہ کو بوتھ لیول آفیسر (بی ایل او) کے طور پر تعینات کرسکتا ہے، لیکن اس سے اساتذہ پر غیر ضروری تناو¿ نہیں ہونا چاہیے۔ چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے نے منگل کو یہ تبصرہ کیا۔ معاملے کی اگلی سماعت 20 اگست کو ہوگی۔
سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے کہا کہ خصوصی جامع نظرثانی کے دوران اسکول اساتذہ کی تعیناتی کے دوران حق تعلیم قانون کی دفعات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ انتخابی کمیشن نے اپنے ردعمل میں کہا کہ وہ سینٹ میری اسکول معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق اسکول کے اوقات میں کسی استاد کی خدمات نہیں لے گا۔
درخواست گزار نے الیکشن کمیشن کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن نے یہ سرکلر ہائی تب نکالا،جب ان کی درخواست ہائی کورٹ میں دائر کی گئی۔ اس کا مطلب ہے کہ درخواست دائر کرنے سے قبل الیکشن کمیشن سینٹ میری اسکول کے فیصلے پر عمل نہیں کر رہا تھا۔ درخواست گزار نے کہا کہ اسکول کے اساتذہ کو متضاد ہدایات موصول ہو رہی ہیں۔ اسکول کے پرنسپل نے ایک ہدایت جاری کی جبکہ الیکشن آفیسر نے دوسری ہدایت جاری کی۔
اس سے قبل کی سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کے فیصلے پر سوال اٹھایا تھا۔ وکلا اشوک اگروال اور راجیش کمار گوگنا کی طرف سے دائر درخواست میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے حکم کے بعد دہلی کے سرکاری اسکولوں، میونسپل کارپوریشن اسکولوں اور امداد یافتہ اسکولوں کے اساتذہ کو بڑے پیمانے پر بی ایل او کے طور پر تعینات کیا گیا ہے۔ اس سے سرکاری اسکولوں میں تدریسی عمل میں خلل پڑ رہا ہے جبکہ پرائیویٹ اسکولوں میں پڑھائی کا عمل خوش اسلوبی سے جاری ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ اسکولوں میں تدریسی عمل میں رکاوٹ آئین کے آرٹیکل 14، 21 اور 21 اے کے تحت بچوں کے تعلیم کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کا حکم الیکشن کمیشن بمقابلہ سینٹ میری اسکول میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے ساتھ ساتھ رائٹ ٹو ایجوکیشن ایکٹ کی بھی خلاف ورزی ہے۔
سماعت کے دوران عدالت نے الیکشن کمیشن کی نمائندگی کرنے والے وکیل سے پوچھا کہ کیا وہ جو بھی فیصلہ کریں گے ،اس میں آئین کے آرٹیکل 324 کی آڑ لیں گے۔ آخر آپ کس حیثیت سے اساتذہ کو خصوصی نظر ثانی میں شامل کر رہے ہیں؟ عدالت نے الیکشن کمیشن سے سوال کیا کہ آپ کہتے ہیں کہ یہ رضاکارانہ ہے، لیکن جو اساتذہ یہ کام کرنے سے انکار کرتے ہیں ، ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جا رہی ہے، ایسی صورتحال میں اساتذہ کے پاس کیا متبادل بچتا ہے؟۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد