
رانچی، 28 جولائی (ہ س): جھارکھنڈ پولیس کو ماؤ نوازوں کے خلاف جاری مہم میں بڑی کامیابی ملی ہے۔ آپریشن نوجیون-II کے تحت کالعدم سی پی آئی (ماؤسٹ) تنظیم کے 16 سرگرم نکسلیوں نے منگل کے روز جھارکھنڈ پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ ہتھیار ڈالنے والوں میں تنظیم کے مختلف سطحوں کے کمانڈر اور دستہ ارکان شامل ہیں۔ انہوں نے 11 جدید ہتھیار، 38 میگزین اور 1,562 زندہ کارتوس بھی پولیس کے حوالے کیے۔
پولیس ہیڈکوارٹر میں منعقدہ تقریب کے دوران ریاست کی ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) تداشا مشرا نے بتایا کہ جھارکھنڈ پولیس، مرکزی ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف)، کوبرا بٹالین اور جھارکھنڈ جگوار کی مشترکہ کارروائیوں کے باعث ماؤ نواز تنظیم پر مسلسل دباؤ بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کی ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی سے متاثر ہو کر بڑی تعداد میں نکسلی تشدد کا راستہ چھوڑ کر قومی دھارے میں واپس آ رہے ہیں۔
ڈی جی پی کے مطابق ہتھیار ڈالنے والے 16 نکسلیوں میں 11 مرد اور پانچ خواتین شامل ہیں۔ ان میں ایک ریجنل کمیٹی ممبر (آر سی ایم)، تین زونل کمیٹی ممبران (زیڈ سی ایم)، تین سب زونل کمیٹی ممبران (ایس زیڈ سی ایم)، چھ ایریا کمیٹی ممبران (اے سی ایم) اور تین دستہ ارکان شامل ہیں۔ یہ تمام کولہان اور سارنڈا کے دشوار گزار جنگلاتی اور پہاڑی علاقوں میں سرگرم تھے اور تنظیم کے سرکردہ رہنماؤں مسر بیسرا عرف ساگر جی اور اسیم منڈل کے دستوں سے وابستہ بتائے جاتے ہیں۔
ڈی جی پی نے کہا کہ مسلسل سکیورٹی آپریشن، تنظیم کے اندر بڑھتی بے چینی اور حکومت کی بازآبادکاری پالیسی کے باعث ماؤ نواز تنظیم مسلسل کمزور ہو رہی ہے۔ خاص طور پر مغربی سنگھ بھوم (چائی باسا) اور آس پاس کے علاقوں میں نکسلی سرگرمیاں تیزی سے محدود ہو رہی ہیں۔ انہوں نے باقی سرگرم نکسلیوں سے بھی اپیل کی کہ وہ تشدد کا راستہ چھوڑ کر ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی سے فائدہ اٹھائیں اور معاشرے کے مرکزی دھارے میں شامل ہو کر باعزت زندگی کا آغاز کریں۔
سی آر پی ایف کے انسپکٹر جنرل (آئی جی) ساکیت سنگھ نے بتایا کہ اسی نیٹ ورک سے وابستہ آٹھ دیگر کمانڈر اور ارکان حال ہی میں چھتیس گڑھ میں بھی ہتھیار ڈال چکے ہیں۔ جھارکھنڈ میں ہتھیار ڈالنے والے 16 نکسلیوں میں سے 15 مغربی سنگھ بھوم (چائی باسا)، لاتیہار، لوہردگا، ہزار ی باغ، کھونٹی، بوکارو، رانچی، سرائیکیلا-کھرساواں اور گریڈیہ اضلاع کے رہائشی ہیں، جبکہ ایک رکن اڈیشہ کے سندر گڑھ ضلع کا باشندہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سال 2026 کے دوران اب تک 93 نکسلی گرفتار کیے جا چکے ہیں، جبکہ 45 نکسلیوں نے ہتھیار ڈالے ہیں اور پولیس مقابلوں میں 22 نکسلی مارے گئے ہیں۔ اس سے قبل 21 مئی 2026 کو بھی 27 نکسلیوں نے ہتھیار ڈالے تھے۔ جولائی کے دوران اعلیٰ ماؤ نواز کمانڈروں کے خلاف کارروائیاں اور ایک خاتون ایریا کمیٹی رکن کی خودسپردگی بھی سکیورٹی فورسز کی اہم کامیابیوں میں شامل رہی ہیں۔
آئی جی ساکیت سنگھ نے مزید بتایا کہ جھارکھنڈ میں سرگرم رہنے والے آٹھ دیگر ماؤ نواز بھی چھتیس گڑھ میں ہتھیار ڈال چکے ہیں۔ ان میں زونل کمیٹی رکن اشون عرف لچھو کورسا، ایریا کمیٹی ارکان سوہن پونیم، ریتا عرف منگلی کنجام، انوشا کنجام، رجنی مڈکیم اور ارکان راحت مانڈوی، سبنی اور جیلانی شامل ہیں۔
ہتھیار ڈالنے والوں میں 15 لاکھ روپے کے انعام یافتہ ریجنل کمیٹی رکن سنتوش عرف باسودیو دا عرف گاندھی عرف دلیپ عرف سنجے مہتو عرف باسوکو عرف شیام بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ 10 لاکھ روپے کے انعام یافتہ چندن لوہرا اور پانچ پانچ لاکھ روپے کے انعام یافتہ انیل توری عرف اجول اور سکھلال برجیا عرف اکیلا سمیت متعدد زونل، سب زونل اور ایریا کمیٹی ارکان نے بھی قومی دھارے میں واپسی کی۔
خودسپردگی کرنے والے ماؤ نوازوں نےچھ انساس رائفلیں، دو اے کے-47، ایک ایچ کے-33 رائفل، ایک یو ایس کاربائن اور ایک ایم-16 رائفل سمیت مجموعی طور پر 11 ہتھیار پولیس کے حوالے کیے ۔ اس کے علاوہ 38 میگزین اور 1,562 زندہ کارتوس بھی پولیس کے حوالے کیے گئے۔
خودسپردگی کی تقریب میں اے ڈی جی منوج کوشک، اے ڈی جی ٹی. کنداسامی، آئی جی انوپ برتھری، آئی جی ساکیت سنگھ، آئی جی نریندر سنگھ، آئی جی اجے لنڈا، آئی جی میور پٹیل، ڈی آئی جی اندرجیت ماہتھا، ڈی آئی جی کارتک ایس، ڈی آئی جی شیلندر برنوال، ڈی آئی جی نوشاد عالم، ڈی آئی جی وائی ایس رمیش، ڈی آئی جی سنجیو کمار، ڈی آئی جی منوج رتن چوتھے، ڈی آئی جی سندھیا رانی مہتا، چائی باسا کے ایس پی امت کمار رینو، رانچی کے ایس ایس پی راکیش رنجن اور دیگر سینئر پولیس افسران موجود تھے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد