
ریاض،28جولائی(ہ س)۔ آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی اور عالمی تجارتی راستوں پر اس کے ممکنہ اثرات کے باعث چین نے ایران کے ساتھ سفارتی رابطے تیز کر دیے ہیں۔ باخبر سفارتی ذرائع کے مطابق بیجنگ نے تہران کو واضح پیغام دیا ہے کہ وہ موجودہ صورتحال پر اپنی تشویش رکھتا ہے اور ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے مؤقف میں لچک پیدا کرے تاکہ خطے میں کشیدگی کم کی جا سکے۔ذرائع کے مطابق چین، پاکستان کے تعاون سے امریکہ اور ایران کے درمیان رابطوں کی بحالی اور سفارتی مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ رابطے برقرار رکھنے اور اعتماد سازی کے اقدامات پر بھی غور کیا جا رہا ہے، تاکہ ایرانی جوہری پروگرام، علاقائی سلامتی اور پابندیوں سمیت اہم معاملات پر دوبارہ بات چیت شروع ہو سکے۔
ادھر ایران نے واضح کیا ہے کہ جنگی کارروائیوں میں وقفے کے باوجود اس وقت واشنگٹن کے ساتھ براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ثالث ممالک امریکی پیغامات تہران تک پہنچا سکتے ہیں، تاہم امریکہ کے ساتھ کسی باضابطہ مذاکرات کا سلسلہ فی الحال جاری نہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو امریکہ سخت فوجی کارروائی کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کو غیر معینہ مدت تک جاری نہیں رکھا جائے گا، تاہم ان کے بقول موجودہ رابطوں سے مثبت نتائج کی امید بھی موجود ہے۔سفارتی ذرائع کے مطابق آبنائے ہرمز اب بھی امریکہ اور ایران کے درمیان اختلافات کا سب سے اہم نکتہ ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے میں جہاز رانی کا نیا انتظام عمان کے ساتھ مشاورت اور اپنی نگرانی میں ہونا چاہیے، جبکہ واشنگٹن اس تجویز کی مخالفت کر رہا ہے۔
حالیہ دنوں میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے بعض بحری جہازوں کا راستہ تبدیل کرانے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں، جس سے عالمی بحری تجارت پر خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے ضابطوں اور انتظامی طریقہ? کار سے متعلق مذاکرات جاری ہیں، جن میں دونوں ممالک پیش رفت کا دعویٰ کر رہے ہیں۔مبصرین کے مطابق چین کی بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ بیجنگ خطے میں مزید کشیدگی سے بچنے، عالمی تجارت کو محفوظ رکھنے اور امریکہ و ایران کے درمیان کسی ممکنہ سیاسی حل کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan