
ریاض،28جولائی(ہ س)۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال کے پیشِ نظر خلیجی ممالک نے سفارتی سرگرمیوں میں نمایاں تیزی پیدا کر دی ہے۔ گزشتہ دو روز کے دوران سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، کویت، عمان اور دیگر خلیجی ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان متعدد ٹیلی فونک رابطے ہوئے، جن میں خطے کی تازہ صورتحال، کشیدگی میں کمی، آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کے تحفظ اور علاقائی امن و سلامتی کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے رکن ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی اور عالمی سپلائی چین کا تسلسل برقرار رکھنا نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی انتہائی ضروری ہے۔ اسی مقصد کے تحت بحرین میں آج سے خلیجی ممالک کی مشترکہ فوجی مشق بحرین کا حفاظتی حصار بھی شروع ہو گئی ہے، جو جمعرات تک جاری رہے گی۔ اس مشق کا مقصد مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنانا، عسکری تعاون کو فروغ دینا اور مختلف سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی کو مضبوط بنانا ہے۔
دوسری جانب ایران نواز عراقی ملیشیاؤں کی جانب سے سعودی عرب کے مشرقی علاقے اور ریاض میں تیل کی تنصیبات پر کیے گئے ڈرون حملوں نے خطے میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ سعودی وزارتِ دفاع نے ان حملوں کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائیاں عراقی سرزمین سے ایران سے وابستہ گروہوں نے کیں۔ سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی سلامتی، خودمختاری اور اہم تنصیبات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے، جبکہ عراقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو ایسے حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔
ان حملوں کے بعد سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے قطر، کویت، عمان اور برطانیہ کے اعلیٰ حکام سے بھی رابطے ہوئے، جن میں حملوں کی مذمت، کشیدگی کم کرنے اور سفارتی ذرائع سے مسائل کے حل کی ضرورت پر اتفاق کیا گیا۔ تمام فریقوں نے خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے باہمی مشاورت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ادھر کویت نے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ معاہدے کے تحت دونوں ممالک ایک مشترکہ فوجی کمیٹی قائم کریں گے، جو دفاعی تعاون، تربیت اور مشترکہ منصوبوں پر عمل درآمد کی نگرانی کرے گی۔ کویتی وزارتِ دفاع نے اس کے ساتھ فوج میں رضاکارانہ بھرتیوں کا نیا مرحلہ بھی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
دریں اثنا عمان نے بھی ایران اور دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت، تجارتی سپلائی چین کی بحالی اور کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی رابطے مزید تیز کر دیے ہیں۔ عمانی حکام کا کہنا ہے کہ سیاسی مذاکرات اور علاقائی تعاون ہی خطے میں پائیدار امن اور استحکام کی ضمانت بن سکتے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan