غزہ جنگ بندی مذاکرات: حماس نے انتظامی ڈھانچے اور اسلحے سے متعلق اہم تجاویز پر آمادگی ظاہر کر دی
دبئی،28جولائی(ہ س)۔ غزہ میں جنگ بندی اور جنگ کے بعد کے انتظامات سے متعلق سفارتی کوششوں میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق غزہ میں موجود حماس کی قیادت نے اپنی تمام تنظیمی شاخوں سے مشاورت کے بعد بیرونِ ملک موجود تنظیمی قیادت کو آگاہ کیا ہے
غزہ جنگ بندی مذاکرات: حماس نے انتظامی ڈھانچے اور اسلحے سے متعلق اہم تجاویز پر آمادگی ظاہر کر دی


دبئی،28جولائی(ہ س)۔ غزہ میں جنگ بندی اور جنگ کے بعد کے انتظامات سے متعلق سفارتی کوششوں میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق غزہ میں موجود حماس کی قیادت نے اپنی تمام تنظیمی شاخوں سے مشاورت کے بعد بیرونِ ملک موجود تنظیمی قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ وہ ثالثوں کی جانب سے پیش کیے گئے امن منصوبے کے تازہ ترین مسودے کی دو اہم شقوں پر آمادہ ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ شقیں غزہ کے مستقبل کے انتظامی ڈھانچے اور فلسطینی مزاحمتی تنظیموں کے اسلحے سے متعلق ہیں، جنہیں مذاکرات کے دوران سب سے پیچیدہ اور حساس نکات تصور کیا جاتا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق ان نکات پر پیش رفت جنگ بندی معاہدے کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ منصوبے میں غزہ کے انتظامی امور، سرکاری ملازمین کی حیثیت، تنخواہوں، مالی واجبات اور گزشتہ برسوں کے دوران پیدا ہونے والی مالی ذمہ داریوں کو مستقبل کے مرحلے میں طے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، تاکہ یہ معاملات موجودہ جنگ بندی معاہدے کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں۔

اسی طرح ایک اور اہم شق عبوری دور میں فلسطینی تنظیموں کے اسلحے، نئی سکیورٹی فورسز کے اختیارات اور مستقبل کی سول انتظامیہ اور مسلح گروہوں کے درمیان تعلقات سے متعلق ہے۔ اگرچہ حماس ماضی میں اسلحہ چھوڑنے سے متعلق تجاویز کو مسترد کرتی رہی ہے، تاہم ذرائع کے مطابق اس مرتبہ معاملے کو آئندہ مراحل میں مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق مجوزہ منصوبے میں غزہ میں موجود موجودہ حکومتی انتظام کو ختم کر کے اس کی جگہ ایک عبوری ٹیکنوکریٹ یا غیر جماعتی انتظامیہ قائم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے، جو عبوری مدت کے دوران شہری امور سنبھالے گی۔ اس اقدام کا مقصد انتظامی خلا کو پُر کرنا اور سیاسی رکاوٹوں کو کم کرنا بتایا جا رہا ہے، جبکہ زیادہ پیچیدہ معاملات بعد کی بات چیت کے لیے چھوڑ دیے جائیں گے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان واشنگٹن میں متوقع ملاقات قریب ہے۔ ثالث ممالک بھی غزہ میں جنگ بندی اور سیاسی حل کے لیے اپنی سفارتی کوششیں تیز کر رہے ہیں۔

دوسری جانب ایک اسرائیلی عہدیدار کے مطابق حکومت نے ایک ایسے قانونی فریم ورک کی منظوری دی ہے جس کے تحت جنگ بندی منصوبے کے حصے کے طور پر غزہ میں ایک بین الاقوامی استحکامی فورس تعینات کی جا سکے گی۔ اطلاعات کے مطابق اس فورس میں تقریباً 200 اہلکار مختلف دوست ممالک سے شامل ہوں گے اور انہیں صرف ان علاقوں میں تعینات کیا جائے گا جہاں اسرائیلی افواج موجود نہیں ہوں گی، جبکہ ہر تعیناتی کے لیے اسرائیل کی الگ منظوری درکار ہوگی۔مجوزہ منصوبے میں انسانی امداد میں اضافہ، عبوری فلسطینی سول انتظامیہ کے قیام اور منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے ایک بین الاقوامی مجلسِ امن کے قیام کی تجاویز بھی شامل ہیں۔

تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ حالیہ پیش رفت کو مثبت قرار دیا جا رہا ہے، لیکن فلسطینی تنظیموں کے اسلحے کا مستقبل، غزہ کی آئندہ سیاسی و انتظامی ساخت اور اسرائیلی افواج کے انخلا جیسے بنیادی معاملات اب بھی حل طلب ہیں، جن پر اتفاقِ رائے کے بغیر کسی جامع معاہدے کا مکمل نفاذ ممکن نہیں ہوگا۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande