سواستھیہ ساتھی کے مستفیدین کے لیے نئی ہیلتھ انشورنس اسکیم، سالانہ 5 لاکھ روپے تک کیش لیس علاج دستیاب ہوگا
کولکاتا، 28 جولائی (ہ س)۔ مغربی بنگال حکومت نے سواستھیہ ساتھی اسکیم کے تحت آنے والے، لیکن سماجی و اقتصادی معیارات کی وجہ سے آیوشمان بھارت اسکیم سے استفادہ نہیں کر سکنے والے کنبوں کے لیے ایک نئی ہیلتھ انشورنس اسکیم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ وزیر ا
Cm-health-scheme-wb-kok


کولکاتا، 28 جولائی (ہ س)۔ مغربی بنگال حکومت نے سواستھیہ ساتھی اسکیم کے تحت آنے والے، لیکن سماجی و اقتصادی معیارات کی وجہ سے آیوشمان بھارت اسکیم سے استفادہ نہیں کر سکنے والے کنبوں کے لیے ایک نئی ہیلتھ انشورنس اسکیم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ وزیر اعلی شبھیندو ادھیکاری نے اعلان کیا کہ اہل خاندانوں کو ”مکھیہ منتری سواستھیہ بیما یوجنا (ایم ایم ایس بی وائی )“ کے تحت ہر سال 5 لاکھ تک کیش لیس علاج کی سہولت دستیاب ہوگی۔

محکمہ صحت کے ذریعہ ہفتہ کو جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ اس اسکیم کا مقصد ان کنبوں کو مالی تحفظ فراہم کرنا ہے جو سواستھیہ ساتھی اسکیم کے مستفید ہیں لیکن آیوشمان بھارت اسکیم کے اہل نہیں ہیں۔ تاہم، جن خاندانوں کی سالانہ آمدنی 8 لاکھ روپے سے زیادہ ہے، جو کسی دوسری ریاست یا مرکزی حکومت کی ہیلتھ اسکیم یا ایمپلائز اسٹیٹ انشورنس (ای ایس آئی ) کے تحت آتے ہیں، یا جن کی عمر 70 سال سے زیادہ ہے، اس اسکیم سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔ 70 سال سے زیادہ عمر کے لوگ آیوشمان بھارت اسکیم کے تحت ہی شامل رہیں گے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق، اگر کسی شخص کا سی اے اے یا ایس آئی آر سے متعلق ٹریبونل میں کوئی معاملہ زیر التوا ہے، لیکن وہ اہلیت کے دیگر تمام معیارات پر پورا اترتے ہیں، تو انہیں اسکیم تک رسائی سے محروم نہیں کیا جائے گا۔ تاہم، اگر ان کا نام متعلقہ ریکارڈ سے ہٹا دیا جاتا ہے، تو وہ چیف منسٹر ہیلتھ انشورنس اسکیم اور آیوشمان بھارت دونوں کے فوائد سے محروم ہو جائیں گے۔

نئی اسکیم کے تحت، ہر خاندان کو فلوٹر کی بنیاد پر سالانہ زیادہ سے زیادہ 5 لاکھ روپے تک کیش لیس علاج ملے گا۔ سواستھیہ ساتھی اسکیم کے برعکس، صرف خاندان کے سربراہ کے نام پر کارڈ جاری نہیں ہوگا، بلکہ خاندان کے ہر فرد کے لیے الگ الگ کارڈ جاری کیے جائیں گے۔ یہ کارڈ مکمل طور پر مفت ہوں گے اورکنبے کے افراد کی تعداد پر کوئی حد نہیں ہوگی۔ اسکیم کے تحت پہلے سے موجود حالات کا احاطہ بھی کیا جائے گا، لیکن علاج کی لاگت پہلے ادا کرنے اور پھر رقم واپس حاصل کرنے کی سہولت دستیاب نہیں ہوگی۔

علاج کے دوران آدھار پر مبنی شناخت اور آبھا (آیوشمان بھارت ہیلتھ اکاو¿نٹ) کارڈ کا استعمال لازمی ہوگا۔ تجویز کردہ آیوشمان بھارت پیکیج کے مطابق اور اسکیم سے منسلک اسپتالوں میں علاج فراہم کیا جائے گا۔ محکمہ صحت اس اسکیم کے لیے نوڈل محکمہ ہوگا، جبکہ ریاستی صحت ایجنسی اس کے نفاذ کی ذمہ دار ہوگی۔

ریاستی کابینہ نے 22 جولائی کو اس اسکیم کو منظوری دی تھی۔ اس کے بعد محکمہ صحت نے 25 جولائی کو ایک نوٹیفکیشن جاری کیا، جس کی تفصیلات پیر کو عام کی گئیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande