پرامن مظاہروں میں چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی کے استعمال کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا
نئی دہلی، 28 جولائی (ہ س)۔ سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کر کے پرامن مظاہروں کے دوران فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی اور بائیومیٹرک نگرانی کے استعمال کو چیلنج کیا گیا ہے۔ عرضی سی پی ایم کے راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ اے اے رحیم نے دائر کی ہے۔ وکیل سبھاش چندرن
سپریم کورٹ


نئی دہلی، 28 جولائی (ہ س)۔ سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کر کے پرامن مظاہروں کے دوران فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی اور بائیومیٹرک نگرانی کے استعمال کو چیلنج کیا گیا ہے۔ عرضی سی پی ایم کے راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ اے اے رحیم نے دائر کی ہے۔

وکیل سبھاش چندرن کے آر کے ذریعے دائر عرضی میں کہا گیا ہے کہ پرامن مظاہروں کے دوران فیشل ریکگنیشن (چہرے کی شناخت) ٹیکنالوجی اور بائیومیٹرک نگرانی کا استعمال غیر آئینی ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ جب تک پارلیمنٹ اس کے بارے میں کوئی قانون نہیں بناتی، تب تک ان ٹیکنالوجیز کے استعمال کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

عرضی میں کہا گیا ہے کہ دہلی پولیس نے جنتر منتر کے مظاہرین کی نگرانی کا جو طریقہ اپنایا ہے، اس کے لیے کوئی قانون موجود نہیں ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ نہ تو دہلی پولیس کے اسٹینڈنگ آرڈرز اور نہ ہی کرمنل پروسیجر (آئیڈنٹیفیکیشن) قانون بائیومیٹرک نگرانی کی اجازت دیتا ہے۔ دہلی پولیس آٹومیٹڈ ٹیکنالوجی کے ذریعے مظاہرین کی بائیومیٹرک شناخت کر کے اسے قومی مجرمانہ ڈیٹا سے جوڑ رہی ہے۔ اس کے ذریعے دہلی پولیس مظاہرین، صحافیوں اور عام شہریوں کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔

عرضی میں کہا گیا ہے کہ حقِ معلومات (آر ٹی آئی) کے تحت موصول جواب میں دہلی پولیس نے خود کہا ہے کہ فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی کا استعمال گمشدہ افراد یا متوفیان کی شناخت کے لیے کیا جاتا ہے۔ عرضی میں کے ایس پٹاسوامی بنام مرکز کے معاملے میں پرائیویسی کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیا گیا ہے اور دہلی پولیس کے فیصلے پر سوال کھڑا کیا گیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande