مغرور امریکہ نے مذاکرات کی کوئی اپیل نہیں کی، ہرمز بند ہے: ایرانی وزارت خارجہ کا دعویٰ
تہران، 27 جولائی (ہ س)۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران نے جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ سے مذاکرات کی بحالی کی درخواست نہیں کی ہے۔ بقائی نے کہا، بار بار جنگی جرائم کا ارتکاب کرنا اور پھر ان پر فخر کرنا امریکہ کی عادت ہے۔
مغرور امریکہ نے مذاکرات کی کوئی اپیل نہیں کی، ہرمز بند ہے: ایرانی وزارت خارجہ کا دعویٰ


تہران، 27 جولائی (ہ س)۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران نے جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ سے مذاکرات کی بحالی کی درخواست نہیں کی ہے۔ بقائی نے کہا، بار بار جنگی جرائم کا ارتکاب کرنا اور پھر ان پر فخر کرنا امریکہ کی عادت ہے۔ امریکہ اور اسرائیل اس جنگ کی قیمت ضرور ادا کریں گے۔ انہوں نے آج یہاں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو بند کر دیا گیا ہے۔

الجزیرہ کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ ہفتوں میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ واشنگٹن نے حملے کیے ہیں اور تہران نے مشرق وسطیٰ کے ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔ تاہم دونوں فریقوں نے دو دن سے حملے بند کر دیے ہیں۔ وزارت خارجہ کے ترجمان بقائی نے کہا کہ عمان اور ایران آبنائے ہرمز کے حوالے سے بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں، انہوں نے کہا کہ اس اہم آبی گزرگاہ کے حوالے سے جمعہ اور ہفتہ کو بامعنی بات چیت ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ فی الحال آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کا ایران اور عمان کے درمیان جاری مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس جنگ میں مشرق وسطیٰ کے کچھ ممالک نے امریکہ کی طرف سے حصہ لیا اور تہران اس کا بنیادی طور پر ذمہ دار امریکہ کو ٹھہراتا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ امید ہے کہ یہ ممالک ایران کے خلاف امریکہ کے اقدامات میں تعاون جاری نہیں رکھیں گے۔ تاہم، بقائی نے کسی مخصوص ملک کا نام نہیں لیا۔

سعودی امریکہ جوہری معاہدے سے متعلق سوال کے جواب میں ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ جوہری توانائی کا پرامن استعمال ہر کسی کا حق ہے۔ ایران کو بھی یہ حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین نے جہاز پر حملہ کرکے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ ایران ضرور جواب دے گا۔ انہوں نے کہا کہ روس یوکرین جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں تھا ۔

ترجمان بقائی نے کہا کہ امریکہ اسرائیل جنگ شروع ہونے کے بعد واشنگٹن نے سوچا کہ ایران تین دن میں ٹوٹ کر ہتھیار ڈال دے گا۔

بقائی نے کہا کہ جب بھی توانائی کی عالمی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے، امریکہ مذاکرات کی میز پر واپس آنے پر اصرار کرتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande