اقوام متحدہ کے اگلے سیکریٹری جنرل کی دوڑ تیز، سات امیدوار میدان میں، یوگنڈا کے اولارا اوتونو بھی شامل
نیویارک،27جولائی(ہ س)۔ اقوام متحدہ کے اگلے سیکریٹری جنرل کے انتخاب کے لیے جاری سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے۔ یوگنڈا نے اپنے سینئر سفارت کار اولارا اوتونو کو باضابطہ طور پر اس عہدے کے لیے نامزد کر دیا ہے، جس کے بعد امیدواروں کی مجموعی تعداد سات ہو گئی
اقوام متحدہ کے اگلے سیکریٹری جنرل کی دوڑ تیز، سات امیدوار میدان میں، یوگنڈا کے اولارا اوتونو بھی شامل


نیویارک،27جولائی(ہ س)۔ اقوام متحدہ کے اگلے سیکریٹری جنرل کے انتخاب کے لیے جاری سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے۔ یوگنڈا نے اپنے سینئر سفارت کار اولارا اوتونو کو باضابطہ طور پر اس عہدے کے لیے نامزد کر دیا ہے، جس کے بعد امیدواروں کی مجموعی تعداد سات ہو گئی ہے۔ موجودہ سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش کی دوسری اور آخری آئینی مدت رواں سال کے اختتام پر مکمل ہو رہی ہے، جس کے بعد نئے سربراہ کا انتخاب کیا جائے گا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کے سربراہان کو بھیجے گئے یوگنڈا کے سرکاری خط میں اولارا اوتونو کی نامزدگی کی تصدیق کی گئی ہے۔ 75 سالہ اوتونو اقوام متحدہ میں طویل سفارتی اور انتظامی تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ ماضی میں نائب سیکریٹری جنرل رہ چکے ہیں، جبکہ بچوں اور مسلح تنازعات سے متعلق سیکریٹری جنرل کے خصوصی نمائندے کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

اپنے انتخابی وژن میں اولارا اوتونو نے اقوام متحدہ کے ادارہ جاتی ڈھانچے میں اصلاحات جاری رکھنے، عالمی تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دینے اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی نگرانی کے لیے ایک عالمی ادارہ قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے اقدامات کی حمایت کرتے ہوئے اس بات پر بھی زور دیا کہ ماحولیاتی پالیسیوں سے معاشی ترقی متاثر نہیں ہونی چاہیے۔

اب تک اس اہم منصب کے لیے سات امیدوار سامنے آ چکے ہیں، جن میں:

رافائل گروسی (ارجنٹینا)، ڈائریکٹر جنرل، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے )

میشیل باشیلیٹ(چلی)، سابق صدر

ریبیکا گرینسپان (کوسٹا ریکا)، سابق نائب صدر

ماریا فرناندا ایسپینوسا (ایکواڈور)، سابق وزیر خارجہ

کیرولین روڈریگیز برکیٹ (گیانا)، سابق وزیر خارجہ

مکی سال (سینیگال)، سابق صدر

اولارا اوتونو (یوگنڈا)، سابق نائب سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ

سفارتی ذرائع کے مطابق سلامتی کونسل میں اس ہفتے امیدواروں کے حوالے سے غیر رسمی ووٹنگ کے مراحل شروع ہونے کا امکان ہے۔ اس عمل کے ذریعے امیدواروں کی تعداد محدود کی جائے گی تاکہ ایسے امیدوار پر اتفاق رائے قائم ہو سکے جسے بعد میں جنرل اسمبلی کی منظوری کے لیے پیش کیا جا سکے۔اگرچہ نامزدگی کا عمل ابھی جاری ہے اور مزید امیدوار بھی سامنے آ سکتے ہیں، تاہم سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ اس وقت کوئی بھی امیدوار واضح برتری حاصل نہیں کر سکا۔

ادھر عالمی سفارتی حلقوں میں یہ بحث بھی زور پکڑ رہی ہے کہ اس بار سیکریٹری جنرل کا منصب لاطینی امریکہ کے کسی امیدوار کو ملنا چاہیے، جبکہ متعدد ممالک اقوام متحدہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی خاتون کو اس عہدے پر منتخب کیے جانے کی بھی حمایت کر رہے ہیں۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے انتخاب میں سب سے اہم مرحلہ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان—امریکہ، روس، چین، برطانیہ اور فرانس—کی حمایت حاصل کرنا ہوتا ہے، کیونکہ ان میں سے کسی ایک ملک کا ویٹو بھی کسی امیدوار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔ سلامتی کونسل کی منظوری کے بعد ہی منتخب امیدوار کا نام حتمی توثیق کے لیے جنرل اسمبلی میں پیش کیا جاتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande