
نئی دہلی، 27 جولائی (ہ س)۔
سپریم کورٹ کے حکم کے بعد، ایودھیا کے شری رام جنم بھومی مندر میں چڑھاوے کی مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لیے ایک نئی ایس آئی ٹی (خصوصی تحقیقاتی ٹیم) تشکیل دی گئی ہے۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے اتر پردیش حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ کو مطلع کیا۔ سپریم کورٹ نے فرانزک آڈیٹر کو شامل کرنے کی ہدایت کر دی۔
عدالت نے ایس آئی ٹی کو جانچ پر اسٹیٹس رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت دی۔ سماعت کے دوران مہتا نے کہا کہ اتر پردیش حکومت نے لکھنو¿ کے آئی ٹی افسر ایس کرن کی سربراہی میں ایک ایس آئی ٹی تشکیل دی تھی۔ عدالت نے پھر کہا کہ فارنسک آڈیٹر کو ایس آئی ٹی میں شامل کیا جائے۔ مہتا نے اس پر اتفاق کیا۔ سماعت کے دوران عرضی گزار کی نمائندگی کرنے والے سینئر وکیل دیودت کامت نے دلیل دی کہ رام مندر کی تعمیر کے لیے ملک بھر سے موصول ہونے والے چڑھاوے کا آڈٹ کیا جانا چاہیے اور عطیہ دہندگان کے لیے شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ٹرسٹ کو ملنے والے فنڈز کی تقسیم کو عام کیا جانا چاہیے۔
13 جولائی کو عدالت نے ٹرسٹ اور اتر پردیش حکومت کو نوٹس جاری کیا۔ عدالت نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی تشکیل سے متعلق ریکارڈ طلب کیا۔ درخواست دو وکلاء اجے کمار رائے اور دنیش کمار یادو نے دائر کی تھی۔ عرضی میں مرکزی حکومت، اترپردیش حکومت اور شری رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹرسٹ کو مالی بے ضابطگیوں کو روکنے کے لیے ایک طریقہ کار قائم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، کیونکہ لاکھوں عقیدت مندوں کے جذبات اس میں شامل ہیں۔
عرضی میں کہا گیا ہے کہ چڑھاوے کی چوری کی خبریں سچ ہیں یا غلط، ان رپورٹوں سے ایودھیا کی شان کے لیے لڑنے والوں کے ایمان کو ٹھیس پہنچی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ مبینہ طور پر غائب فنڈز اور دیگر بے ضابطگیوں کی آزادانہ تحقیقات کی جائیں۔ پیچیدہ مالی اور فوجداری مقدمات کی تفتیش کے لیے ضروری مہارت کے ساتھ یہ تفتیش ایک تفتیشی ایجنسی کے ذریعے کی جانی چاہیے۔
اس سے پہلے بھی ایک وکیل نے سپریم کورٹ کو خط لکھ کر اس معاملے کا از خود نوٹس لینے اور تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ وکیل انوپ اوستھی نے سپریم کورٹ کو ایک خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ مسئلہ ملک کے کروڑوں لوگوں کے آستھا سے جڑا ہوا ہے۔ خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات عدالت کی نگرانی میں کی جائے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ یہ مندر 2020 میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد قائم ہونے والے ایک ٹرسٹ کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ