
نئی دہلی، 27 جولائی (ہ س)۔ راجیہ سبھا میں پیر کو بھی رخنہ اندازی جاری رہی، جس سے قومی وقار کی توہین کی روک تھام (ترمیمی) بل 2026 پر بحث نہیں ہو سکی۔جب کارروائی شروع ہوئی تو ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نے بل پر بحث کرنے کی کوشش کی لیکن اپوزیشن ارکان نے نعرے بازی جاری رکھی۔
صبح پہلے11 بجے ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی جس کے بعد ایوان کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک، پھر دوپہر 2 بجے تک اور پھر 5 بجکر 15 منٹ تک ملتوی کردی گئی۔ ہنگامہ شام تک جاری رہا۔
پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کانگریس اور اس کی اتحادی جماعتوں سے ایوان کو چلنے دینے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی اس بات کی شکایت کرتی ہے کہ پارلیمنٹ میں بولنے کا موقع نہیں دیا جاتا ہے، جبکہ اندر بحث کو روکا جاتا ہے۔ انہوں نے اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھرگے پر زور دیا کہ وہ طے شدہ ایجنڈے کے مطابق بحث کو آگے بڑھائیں اور اپوزیشن کے رویہ پر تنقید کی۔
اس پر ملکارجن کھرگے نے کہا کہ اپوزیشن بحث کے لیے تیار ہے، لیکن پہلے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو دہلی میں مظاہرین پر طاقت کے استعمال کے معاملے پر ایوان میں بیان دینا چاہیے۔
ایوان حکمراں اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان تلخ نعرے بازی کے سبب ہنگامہ بڑھ گیا۔ اس کے بعد ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نے راجیہ سبھا کی کارروائی منگل 28 جولائی 2026 کی صبح 11 بجے تک ملتوی کر دی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد