
نئی دہلی، 27 جولائی (ہ س)۔ عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے قومی کنوینر اور دہلی کے سابق وزیر اعلی اروند کیجریوال نے پنجاب میں پیپر لیک ہونے کے الزامات کو واضح طور پر خارج کرتے ہوئے انہیں سیاسی پروپیگنڈہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ عام آدمی پارٹی کی حکومت نے پنجاب کو ملک میں تعلیم کے میدان میں 27 ویں مقام سے پہلے مقام پر پہنچا دیا ہے اور اس کامیابی کو بدنام کیا جا رہا ہے۔
اروند کیجریوال نے پیر کو پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عام آدمی پارٹی کے دہلی میں 10 سالہ حکومت اور پنجاب میں پانچ سال کے دوران ایک بھی پیپر لیک نہیں ہوا۔ اس کے برعکس، کئی ریاستوں میں پیپر لیک ہونے کے واقعات اکثر ہوتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے پنجاب پر جھوٹے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جس امتحان میں پیپر لیک ہونے کے الزامات لگائے جا رہے ہیں، دو امتحانی مراکز پر کچھ امیدواروں نے ا سمارٹ قلم کا استعمال کرتے ہوئے دھوکہ دینے کی کوشش کی۔ ملوث امیدوار امتحان کے دوران پکڑے گئے اور ان کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔ کیجریوال نے کہا کہ یہ پیپر لیک کا معاملہ نہیں تھا، بلکہ دھوکہ دہی کی کوشش تھی، جسے بروقت روک دیا گیا۔
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 2022 میں عام آدمی پارٹی کی حکومت آنے سے پہلے پنجاب تعلیم میں ملک میں 27 ویں نمبر پر تھا، لیکن اب ریاست نے کیرالہ کو پیچھے چھوڑ کر پہلا مقام حاصل کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے پاس پنجاب حکومت کے خلاف کوئی ٹھوس ایشو نہیں ہے اس لیے وہ تعلیمی نظام کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے طلبہ کے احتجاج کے تناظر میں مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے طلباءکے خلاف کارروائی نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن اس کے باوجود بہار اور مغربی بنگال سمیت کئی ریاستوں میں طلباءکے خلاف پولیس کارروائی، مقدمہ اور لاٹھی چارج کیا جا رہا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اپنے وعدوں پر عمل نہیں کر رہی ہے۔
پیپر لیک کو روکنے کے لیے نئے قانون بنانے کے معاملے پر کیجریوال نے کہا کہ محض سخت قوانین بنانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کا پیپر لیک مافیا کے خلاف کارروائی کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ اگر حکومت سنجیدہ ہوتی تو موجودہ قوانین کے تحت موثر کارروائی کرتی اور مجرموں کو سخت سے سخت سزا دینے کو یقینی بناتی۔ انہوں نے کہا کہ عام آدمی پارٹی کسی بھی سخت قانون کا خیرمقدم کرے گی، لیکن جو چیز سب سے زیادہ ضروری ہے وہ سیاسی رضامندی اور غیر جانبدارانہ کارروائی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی