
کاٹھمنڈو، 27 جولائی(ہ س)۔
نیپال کے سرحدی ضلع سنسری کے دیوان گنج علاقے میں اتوار کی شب دو گروہوں کے درمیان ہونے والی فرقہ وارانہ جھڑپ کے بعد صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔ واقعے کے بعد پورے علاقے میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے، جبکہ حکومت نے واقعے کی تحقیقات کے لیے پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دے کر مرکزی سکیورٹی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کر لیا ہے۔پولیس کے مطابق جھڑپ کے دوران ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے سکیورٹی اہلکاروں نے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک جبکہ 21 افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
ضلع انتظامیہ سنسری کے چیف ڈسٹرکٹ آفیسر باسودیو گھمیرے نے مقامی انتظامیہ ایکٹ کی دفعہ 6 (الف) کے تحت پیر کی صبح 7 بجے سے ضلع کے پانچ حساس علاقوں میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کرنے کے احکامات جاری کیے۔ کرفیو اگلے حکم تک نافذ رہے گا۔
جن علاقوں میں کرفیو نافذ کیا گیا ہے ان میں ہرینگرا بازار، بھٹاہا بازار، کسنہ گنج بازار، گھسکی بازار اور دیوان گنج بازار شامل ہیں۔ ان علاقوں میں لوگوں کی آمد و رفت، ہر قسم کے اجتماع، جلوس، مظاہرے، جلسے اور دھرنوں پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
دوسری جانب نیپال حکومت نے واقعے کو انتہائی سنجیدگی سے لیتے ہوئے پیر کی شام مرکزی سکیورٹی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا ہے۔ اجلاس کی صدارت وزیر داخلہ سودن گروُنگ کریں گے، جس میں وزارت داخلہ کے اعلیٰ حکام، نیپال پولیس کے انسپکٹر جنرل، آرمڈ پولیس فورس کے سربراہ، قومی تحقیقاتی ادارے کے نمائندے اور نیپالی فوج کے افسران شرکت کریں گے۔ اجلاس میں سنسری کے واقعے سمیت ملک کی مجموعی امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لے کر آئندہ کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔
حکومت نے واقعے کی تحقیقات کے لیے وزارت داخلہ کے جوائنٹ سیکریٹری بھویندر تھاپا کی سربراہی میں پانچ رکنی تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔ وزارت داخلہ کی معاون ترجمان رما آچاریہ کے مطابق کمیٹی کو ایک ہفتے کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں اضافی سکیورٹی فورسز تعینات کر دی گئی ہیں اور حالات پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ مزید کسی ناخوشگوار واقعے کو روکا جا سکے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan