استعفیٰ کے بعد پارلیمنٹ پہنچے دھرمیندر پردھان، کہا- میں اسٹریٹ فائٹر ہوں، اے سی روم کا کارکن نہیں
نئی دہلی، 27 جولائی (ہ س)۔وزیر تعلیم کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے بعد پیر کے روز پہلی بار پارلیمنٹ پہنچنے پر دھرمیندر پردھان کا قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کے ارکان پارلیمنٹ نے مکر دوار پر پرجوش استقبال کیا۔ دربھنگہ سے بی جے پی کے ایم پی گوپال جی ٹ
Dharmendra-Pradhan-regnation


نئی دہلی، 27 جولائی (ہ س)۔وزیر تعلیم کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے بعد پیر کے روز پہلی بار پارلیمنٹ پہنچنے پر دھرمیندر پردھان کا قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کے ارکان پارلیمنٹ نے مکر دوار پر پرجوش استقبال کیا۔ دربھنگہ سے بی جے پی کے ایم پی گوپال جی ٹھاکر نے انہیں روایتی متھیلا کی پاگ پہنائی ۔

اس پر کانگریس کے راجیہ سبھا رکن اور جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ان کا استقبال اس طرح کیا جارہا ہے جیسے انہوں نے کوئی بڑی کامیابی حاصل کی ہو۔ بعد میں اپوزیشن کے کچھ ارکان پارلیمان نے بھی پارلیمنٹ کمپلیکس میں پردھان سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران جے رام نے پردھان سے کہا کہ ایسا ہوتا رہتا ہے۔ اس پر پردھان نے جواب دیا،”میں اسٹریٹ فائٹر ہوں، ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھنے والا ایکٹیوسٹ نہیں ہوں۔“

کانگریس نے پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں پردھان کا استقبال کرنے پر بھارتیہ جنتا پارٹی کی تنقید کی اور کہا کہ یہ پورا واقعہ انتہائی شرمناک اور ملک کے نوجوانوں کی توہین ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس استقبال کے ذریعے حکومت یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ پردھان کا استعفیٰ طلبا کے بہترین مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے ضمیر کی بنیاد پر کیا گیا رضاکارانہ فیصلہ تھا۔ وزیراعظم نے استعفیٰ نہیں مانگا۔ پوری حکومت اور پوری تنظیم ان کے فیصلے کے پیچھے مضبوطی سے کھڑی ہے۔

بی جے پی کے مطابق جب دھرمیندر پردھان نے وزیر تعلیم کے عہدے سے استعفیٰ دیا تو کئی اہم لیڈران بشمول وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر صحت جے پی نڈا، بی جے پی صدر نتن نوین، وزیر اعظم کے دفتر میں وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ، دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے ان کی رہائش گاہ پر جا کر ان سے ملاقات کی تھی۔

قابل ذکر ہے کہ پردھان نے 25 جولائی کو وزیر تعلیم کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ سوشل میڈیا مہم کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے نیٹ کے سوالیہ پرچہ لیک ہونے پر ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے جنتر منتر پر 36 دنوں تک دھرنا دیا تھا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande