حیڈرا کمشنر اے وی رنگناتھ کو فوری عہدہ سے ہٹانے کی چیف سکریٹری کو ہدایت
حیدرآباد ، 27 جولائی (ہ س)۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے حیڈرا کمشنر اے وی رنگناتھ، آئی پی ایس کے خلاف ایک اہم حکم جاری کرتے ہوئے ریاست کے چیف سکریٹری کوسفارش کی ہے کہ انہیں موجودہ عہدے سے ہٹا کران کی جگہ کسی موزوں افسرکو تعینات کیا جائے۔ یہ حکم جسٹس جی ا
حیڈرا کمشنر اے وی رنگناتھ کو فوری عہدہ سے ہٹادینے چیف سکریٹری کو ہدایت


حیدرآباد ، 27 جولائی (ہ س)۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے حیڈرا کمشنر اے وی رنگناتھ، آئی پی ایس کے خلاف ایک اہم حکم جاری کرتے ہوئے ریاست کے چیف سکریٹری کوسفارش کی ہے کہ انہیں موجودہ عہدے سے ہٹا کران کی جگہ کسی موزوں افسرکو تعینات کیا جائے۔

یہ حکم جسٹس جی انیل کمارپرمشتمل سنگل جج بنچ نے شانتا سیرام کنسٹرکشنزپرائیویٹ لمیٹڈ کی جانب سے دائرتوہینِ عدالت کی تین درخواستوں کی سماعت کے دوران جاری کیا۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ حیڈرا کمشنرکوماضی میں بھی متعدد مرتبہ عدالتی احکامات پرعمل کرنے اوراختیارات کے استعمال میں احتیاط برتنے کی ہدایت دی گئی تھی، تاہم انہوں نے نہ صرف ان احکامات پر مکمل عمل نہیں کیا بلکہ عدالت کو دی گئی یقین دہانی بھی پوری کرنے میں ناکام رہے۔

ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ توہینِ عدالت کے اختیارات صرف سزا دینے تک محدود نہیں بلکہ ان کا مقصد عدلیہ کے وقار کو برقرار رکھنا، قانون کی بالادستی کویقینی بنانااور یہ روکنا بھی ہے کہ کوئی شخص یا ادارہ جان بوجھ کر عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرکے اس کا فائدہ حاصل نہ کرے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ حیڈرا کوسڑکوں، جھیلوں، آبی ذخائر، سرکاری زمینوں اوردیگر عوامی املاک کے تحفظ کی اہم ذمہ داری سونپی گئی ہے، لیکن ایسے وسیع اختیارات استعمال کرتے وقت قانون کی مکمل پابندی،احتیاط اورشفافیت ناگزیرہے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ سرکاری اختیارات کا من مانی استعمال شہریوں کے بنیادی حقوق کو متاثرکرتا ہے اورقانون کی حکمرانی کو کمزورکرتاہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ مقننہ، انتظامیہ اورعدلیہ تینوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ کسی بھی سرکاری ادارے میں غیر قانونی یا من مانی کارروائی کو برداشت نہ کیا جائے۔

عدالت نے ریکارڈ پرموجود شواہد کا جائزہ لینے کے بعد کہاکہ حیڈرا کمشنر کا طرزِ عمل بار بار توہینِ عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ پہلے بھی متعدد مرتبہ تنبیہ کیے جانے کے باوجود انہوں نے نہ مطلوبہ احتیاط برتی اور نہ ہی عدالتی ہدایات پر مکمل عمل کیا۔

ہائی کورٹ نے مشاہدہ کیا کہ ایسے حالات میں اے وی رنگناتھ کا اسی عہدے پر برقرار رہنا قانون کی بالادستی کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اسی بنیاد پر چیف سیکریٹری سے کہاگیا ہے کہ وہ حیڈراکمشنر کے عہدے کےلیے کسی مناسب افسرکاانتخاب کریں۔

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ کسی سینئرسرکاری افسر کو عہدے سے ہٹانے کی سفارش ایک غیر معمولی قدم ہے، لیکن مسلسل عدالتی احکامات کی خلاف ورزی اورعدالت کودی گئی یقین دہانیوں پرعمل نہ ہونے کے باعث یہ سفارش ناگزیر ہو گئی۔

اپنے حکم کے اختتام پر عدالت نے کہا کہ عدلیہ کا وقاراور قانون کی حکمرانی ہر حال میں برقرار رہنی چاہیے۔ اگرکوئی سرکاری عہدیدار مسلسل عدالتی احکامات کو نظر انداز کرے توآئینی عدالتیں قانون کی بالادستی کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات کرنے کی پابند ہیں۔

عدالت نے مزید بتایا کہ فی الحال مختصر حکم جاری کیا گیا ہے، جبکہ اس مقدمے میں تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا، جس میں قانون کی بالادستی، توہینِ عدالت کے اختیارات اورانتظامی اختیارات کے ذمہ دارانہ استعمال پر تفصیلی قانونی نکات شامل ہوں گے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande