
تہران/واشنگٹن/کیف، 26 جولائی (ہ س)۔ایران کے ساتھ اس سال 28 فروری سے شروع ہونے والی جنگ کے ختم ہونے کے مثبت اشارے سامنے آئے ہیں۔ آبنائے ہرمز کو لے کر سفارتی بات چیت میں پیش رفت ہوئی ہے۔ امریکی وقت کے مطابق ایران نے جمعہ کی رات چین کی سانس لی۔ امریکی فوج نے حملہ روک دیا۔ حوثی باغیوں کے تیور وہی ہیں۔ اس وجہ سے مغرب ایشیا (شرقِ اوسط) میں کشیدگی برقرار ہے۔ یوکرین سے ایران بہت زیادہ خفا ہے۔ اس نے بحیرہ قزوین (کیسپین سی) میں یوکرینی حملے کی مذمت کرتے ہوئے سفارتکاروں کو طلب کیا۔
الجزیرہ، سی این این اور سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، عمان اور ایران کے درمیان سفارتی بات چیت میں پیش رفت ہوئی ہے۔ دونوں ملکوں نے آبنائے ہرمز اور اس علاقے میں اپنے اپنے سمندری حدود کو دوبارہ کھولنے پر بات چیت کی ہے۔ ذرائع نے اشارہ دیا کہ چیزیں مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ حتمی معاہدے پر پہنچنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔ عمان کے حکام بات چیت کے لیے جمعہ کو تہران گئے تھے۔
بتایا گیا ہے کہ یہ سفارتی پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بمباری کو روکنے کے فیصلے کے بعد ہوئی۔ امریکی فوج نے مسلسل 13 راتوں تک بمباری کی۔ ٹرمپ کے فیصلے کے بعد ایران میں 14ویں رات امریکی فوج نے حملہ نہیں کیا۔ وائٹ ہاوس اور امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اس سلسلے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ امریکی حکام نے یہ ضرور کہا کہ عمان اور ایران کے درمیان ہو رہی بات چیت پر صدر ٹرمپ کی نظر ہے۔
یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ایران اور امریکہ دونوں ہی اس وقت جنگ بندی کا کوئی راستہ تلاش کر رہے ہیں۔ ثالث ملکوں نے دونوں کو منانے کی کوشش کی ہے۔ اہم یہ ہے کہ امریکہ اور ایران آبنائے ہرمز پر کنٹرول کو لے کر اپنے موقف میں تبدیلی کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ایران تجارتی جہازوں سے زبردستی ٹول وصولنا چاہتا ہے۔ ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی اسے کامیاب نہیں ہونے دے رہی۔
سمندری شاہراہ کی اس لڑائی میں امریکہ کا اتحادی یوکرین بھی کود پڑا ہے۔ بحیرہ قزوین میں ایران کے ایک جہاز پر اس کے حملے میں کم از کم ایک ملاح کی موت اور ایک کے زخمی ہونے سے ایران آگ بگولا ہے۔ ایران نے یوکرین کے سفارتکاروں کو طلب کیا ہے۔ ایران کی وزارتِ خارجہ نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وزارت نے یوکرین کے سینئر سفارتکار کو طلب کر کے اسے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے یورپی یونین کے سربراہ برائے خارجہ امور کے ساتھ فون پر بات چیت کر کے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے اس حملے پر ردِعمل دینے کا مطالبہ کیا۔
سینٹ کام نے ایکس پوسٹ میں کہا کہ اس نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے تحت ایک ٹینکر پر چڑھ کر جانچ کی۔ پوسٹ کے مطابق، ’’آج صبح بحیرہ عرب میں کوموروس کے پرچم والے ایم ٹی چارمینار ٹینکر پر چڑھ کر جانچ مکمل کی۔ اس کے بعد ٹینکر کو جانے دیا گیا۔ کل خلیج عمان میں موزمبیق کے پرچم والے ایم ٹی لیوین ٹینکر کو روک کر جانچ کی گئی تھی۔‘‘ سینٹ کام نے کہا کہ یہ ٹینکر ایران جا رہا تھا۔ سینٹ کام نے کہا کہ ایرانی بندرگاہوں پر ناکہ بندی مکمل طور پر جاری ہے۔
یوکرین نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے روسی جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ان جہازوں سے کچھ سامان ایران بھیجا جا رہا تھا۔ یوکرین کے صدر زیلنسکی نے الزام لگایا کہ روس شرقِ اوسط میں ایران کے فوجی آپریشن میں اس کی مدد کر رہا ہے۔ اس درمیان یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے زیرِ قیادت اتحاد کے الحدیدہ بندرگاہ اور کمران جزیرے پر کیے گئے حملوں کے جواب میں بحیرہ احمر کے ساحل پر جیزان اور ینبع میں سعودی آرامکو کی تیل کی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔
زیلنسکی نے ہفتے کے روز ایکس پوسٹ میں کہا کہ وہ امریکہ کے ساتھ کچھ ثبوت شیئر کریں گے۔ ان سے یہ انکشاف ہوگا کہ روس، ایران کو سیٹلائٹ نگرانی کے ذریعے شرقِ اوسط میں امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے میں مدد کر رہا ہے۔ زیلنسکی نے کہا، ’’جولائی کے آغاز سے ہی ہم نے خلیجی ممالک اور وہاں موجود امریکی فوجی ٹھکانوں پر روس کی سرگرم سیٹلائٹ نگرانی دیکھی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ یہ تصاویر بعد میں ایران تک پہنچتی ہیں۔ یوکرین کے صدر زیلنسکی نے کہا، ’’19 اور 20 جولائی کو بحرین کے دو، اردن کے ایک اور کویت کے ایک ایئر بیس میں فوجی تیاریوں کی تصاویر روسی سیٹلائٹس میں نظر آئیں۔‘‘
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن