نیپال حکومت نے متنازعہ نقشے والے ایک روپے کے سکے کا ڈیزائن تیار کیا
۔ لپولیکھ اور کالاپانی کو نیپال کا حصہ دکھایا گیا ہے
لپولیکھ اور کالاپانی کو نیپال کا حصہ دکھایا گیا ہے


کٹھمنڈو، 25 جولائی (ہ س): نیپال حکومت نے ایک روپے کے نئے سکے کا ڈیزائن تیار کر لیا ہے۔ اس سکے پر نیپال کا نیا متنازعہ سیاسی نقشہ درج کیا گیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق، سکے کے نئے ڈیزائن میں ملک کے مکمل سیاسی نقشے کے ساتھ ساتھ آکاش بھیرَو کی تصویر بھی شامل کی گئی ہے۔ اس مجوزہ ڈیزائن کو نافذ کرنے سے پہلے منظوری کے لیے آئندہ کابینہ کے اجلاس میں پیش کرنے کی تیاریاں جاری ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس نئے سکے کے جاری ہونے کا مقصد قومی شناخت اور ثقافتی ورثے کی علامتوں کو نمایاں کرنا ہے۔ کابینہ سے منظوری ملنے کے بعد سکے کی ڈھلائی اور اسے گردش میں لانے کا باضابطہ عمل شروع کر دیا جائے گا۔

قابلِ ذکر ہے کہ اس سے قبل نیپالی میڈیا نے خبر دی تھی کہ حکومت نے مجوزہ ایک روپے کے سکے سے متنازعہ نقشہ ہٹا کر اس کی جگہ لو گیَاکر خانقاہ (مٹھ) کی تصویر شامل کرنے کی منظوری دے دی ہے، لیکن آج جاری کی گئی سرکاری معلومات میں واضح کیا گیا ہے کہ ایک روپے کے نئے سکے پر متنازعہ نقشے کو ہی شامل کیا گیا ہے۔

اس متنازعہ نقشے میں لمپیادھورا، لپولیکھ اور کالاپانی کو نیپال کا حصہ دکھایا گیا ہے۔ بھارت اور نیپال کے درمیان لپولیکھ، کالاپانی اور لمپیادھورا کے علاقوں کو لے کر طویل عرصے سے سرحدی تنازعہ ہے۔ نیپال میں کے پی شرما اولی کی قیادت والی اُس وقت کی حکومت نے مئی 2020 میں یہ متنازعہ نقشہ جاری کیا تھا، جس میں کالاپانی، لپولیکھ اور لمپیادھورا کو نیپال کا حصہ دکھایا گیا تھا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande