مہاراشٹر بند کو ریاست بھر میں زبردست عوامی حمایت حاصل ، طلبہ پر مبینہ جبر کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی، طیب ظفر
ممبئی ، 23 جولائی (ہ س) ونچت بہوجن اگھاڑی کے ریاستی ترجمان طیب ظفر نے کہا ہے کہ قومی صدر ایڈوکیٹ پرکاش بالاصاحب امبیڈکر کی اپیل پر 23 جولائی کو منائے گئے مہاراشٹر بند کو ریاست بھر میں غیر معمولی اور بھرپور عوامی حمایت حاصل ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ
بند


ممبئی ، 23 جولائی (ہ س) ونچت بہوجن اگھاڑی کے ریاستی ترجمان طیب ظفر نے کہا ہے کہ قومی صدر ایڈوکیٹ پرکاش بالاصاحب امبیڈکر کی اپیل پر 23 جولائی کو منائے گئے مہاراشٹر بند کو ریاست بھر میں غیر معمولی اور بھرپور عوامی حمایت حاصل ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی، پونے، اورنگ آباد، اکولہ، بھانڈوپ، ورلی، ہاتکننگلے سمیت مہاراشٹر کے متعدد شہروں میں تاجروں، طلبہ، نوجوانوں، سماجی تنظیموں اور عام شہریوں نے رضاکارانہ طور پر بند کی حمایت کرتے ہوئے جمہوریت اور طلبہ کے حق میں اپنی یکجہتی کا اظہار کیا۔

طیب ظفر نے کہا کہ یہ بند کسی سیاسی مفاد کے لیے نہیں تھا بلکہ دہلی میں پرامن احتجاج کرنے والے طلبہ پر مبینہ لاٹھی چارج اور سخت کارروائی کے خلاف جمہوری احتجاج کی علامت تھا۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کی جائز آواز کو طاقت کے استعمال سے دبانے کی کوشش جمہوری اقدار اور آئین کی روح کے منافی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قومی صدر ایڈوکیٹ پرکاش بالاصاحب امبیڈکر کے مطابق مہاراشٹر بند کے دوران صرف ممبئی میں ہی ونچت بہوجن اگھاڑی کے تقریباً 3 ہزار 500 کارکنوں کو پولیس نے حراست میں لیا۔ ان کے مطابق کارکنوں کو دھمکایا گیا اور پولیس انتظامیہ کے ذریعے خوف کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم اس کے باوجود کارکنوں اور عام شہریوں نے مکمل طور پر پرامن اور جمہوری انداز میں بند کو کامیاب بنایا۔

طیب ظفر نے الزام عائد کیا کہ احتجاج شروع ہونے سے پہلے کارکنوں کو نوٹس جاری کرنا، انہیں حراست میں لینا اور انتظامی دباؤ ڈالنا بنیادی جمہوری حقوق کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ونچت بہوجن اگھاڑی اس قسم کے کسی بھی دباؤ یا جبر سے خوفزدہ ہونے والی نہیں ہے اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ بھانڈوپ، ورلی، اورنگ آباد، پونے، اکولہ، ہاتکننگلے، ممبئی اور ریاست کے دیگر کئی علاقوں میں دکانداروں، تاجروں اور شہریوں نے رضاکارانہ طور پر اپنی دکانیں اور کاروباری ادارے بند رکھ کر طلبہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ ان کے مطابق عوام کی یہ بھرپور شرکت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مہاراشٹر ناانصافی کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہے۔

طیب ظفر نے کہا کہ آج مہاراشٹر بند اس لیے منایا گیا کیونکہ طلبہ کی تکلیف ناقابل برداشت ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح دہلی میں طلبہ کی آواز کو مبینہ طور پر لاٹھیوں کے ذریعے دبانے کی کوشش کی گئی، اگر اسی طرح جمہوری حقوق کی پامالی جاری رہی تو ونچت بہوجن اگھاڑی ہر سطح پر طلبہ کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ جدوجہد کسی سیاسی جماعت کی نہیں بلکہ آئین، جمہوریت اور ملک کے مستقبل کی لڑائی ہے اور یہ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک طلبہ کو انصاف، جوابدہی اور عزت حاصل نہیں ہو جاتی۔ انہوں نے مہاراشٹر کے عوام، تاجروں، سماجی تنظیموں، طلبہ، خواتین، نوجوانوں اور بند کو کامیاب بنانے والے تمام شہریوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 23 جولائی کا مہاراشٹر بند جمہوری حقوق، آئینی اقدار اور طلبہ کے ساتھ عوامی یکجہتی کی ایک تاریخی مثال کے طور پر سامنے آیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande