
نیٹ اور بھرتی گھوٹالوں کو لے کر بھوپال میں طلبہ اور نوجوانوں کا مظاہرہ، نیلم پارک میں پوری ریاست سے مظاہرین جمع ہوئے
بھوپال، 23 جولائی (ہ س)۔ نیٹ پیپر لیک معاملے اور دہلی کے جنتر منتر پر مظاہرہ کر رہے طلبہ پر ہوئی پولیس کارروائی کے خلاف جمعرات کے روز دار الحکومت بھوپال کا نیلم پارک طلبہ اور نوجوانوں کے غصے کا مرکز بنا رہا۔ موومنٹ اگینسٹ ان ایمپلائمنٹ کے بینر تلے منعقدہ ریاستی سطح کے مظاہرے میں ریاست کے تقریباً 20 اضلاع سے طلبہ، نوجوان اور نرسنگ اسٹوڈنٹس شامل ہوئے۔
مظاہرین نے بے روزگاری، پیپر لیک، بھرتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں، ٹھیکیداری نظام اور نرسنگ طلبہ کے مسائل کو لے کر حکومت کے خلاف جم کر نعرے بازی کی۔
مظاہرے کے دوران نوجوانوں کے ہاتھوں میں تختیاں اور پوسٹر نظر آئے۔ سب سے زیادہ تذکرے اس پوسٹر کے رہے، جس پر لکھا تھا- ’’یہ پیپر لیک نہیں، سسٹم کا لیکج ہے۔‘‘ کئی مظاہرین سماجی کارکن سونم وانگچک اور رکن پارلیمنٹ چندر شیکھر آزاد کی تصویریں لے کر بھی پہنچے۔ نیلم پارک کا احاطہ ’’من کی بات تو کرتے ہیں، ہماری بات کیوں نہیں سنتے؟‘‘ جیسے نعروں سے گونجتا رہا۔
تحریک کے مدھیہ پردیش کے کنوینر پرمود نامدیو نے الزام لگایا کہ دہلی میں پرامن مظاہرہ کر رہے طلبہ پر پولیس نے آنسو گیس، واٹر کینن اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا۔ انہوں نے اس کی عدالتی تحقیقات کرانے اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ طلبہ صرف امتحانی نظام میں شفافیت اور غیر جانبداری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
تحریک سے مربوط منوج رجک نے کہا کہ مدھیہ پردیش میں بھرتی امتحانات میں مسلسل سامنے آنے والی بے ضابطگیوں، ویاپم گھوٹالے کے بعد بھی جاری تنازعات اور نرسنگ کالج بدعنوانی نے نوجوانوں کا اعتماد کمزور کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ لاکھوں سرکاری عہدے خالی ہونے کے باوجود مستقل بھرتیاں نہیں ہو رہی ہیں۔ وہیں نرسنگ طلبہ کو وقت پر امتحان، نتائج اور اسکالرشپ نہیں ملنے سے ان کا مستقبل اندھیرے میں ہے۔ مظاہرے کے دوران طلبہ اور نوجوانوں نے مرکزی اور ریاستی حکومت کے نام 13 نکاتی مطالباتی خط سپرد کیا۔
13 نکاتی مطالباتی خط حکومت کو سونپا
٭ نیٹ سمیت تمام مسابقتی امتحانات میں پیپر لیک کی غیر جانبدارانہ تحقیقات۔
٭ مرکزی وزیر تعلیم سے استعفیٰ کا مطالبہ۔
٭ خالی سرکاری عہدوں پر جلد بھرتی۔
٭ ایم پی پی ایس سی اور ایم پی ای ایس بی کے تحت وقت مقررہ میں بھرتی کا عمل۔
٭ نارملائزیشن سسٹم کا جائزہ۔
٭ نرسنگ طلبہ کے زیرِ التوا مسائل کا حل۔
٭ درخواست فیس میں کمی۔
٭ ٹھیکیداری نظام ختم کر کے مستقل روزگار۔
٭ خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانا۔
٭ منریگا کے لیے کافی بجٹ۔
٭ پرامن تحریکوں میں پولیس کی مداخلت پر پابندی۔
مظاہرین نے کہا کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات پر جلد ٹھوس فیصلہ نہیں لیا تو تحریک کو ریاست گیر اور قومی سطح پر مزید وسیع بنایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں سے متعلق مسائل پر اب صرف یقین دہانی نہیں، بلکہ ٹھوس کارروائی کی ضرورت ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن