چنار بک فیسٹیول کے پانچویں دن میرا تخلیقی سفر کے تحت پروفیسر خالد جاوید اور جناب خورشید اکرم سے گفتگو
سری نگر/دہلی،22جولائی(ہ س )، چنار بک فیسٹیول کے پانچویں دن ’میرا تخلیقی سفر:مصنفین ملاقات‘ کے عنوان سے ایک مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جس میں پروفیسر خالد جاوید(مشہور فکشن نگار) اور جناب خورشید اکرم (شاعر،افسانہ نگار اور مدیر) بطور پینلسٹ شریک ہوئے،
چنار بک فیسٹیول کے پانچویں دن ’میرا تخلیقی سفر‘ کے تحت پروفیسر خالد جاوید اور جناب خورشید اکرم سے گفتگو


سری نگر/دہلی،22جولائی(ہ س )،

چنار بک فیسٹیول کے پانچویں دن ’میرا تخلیقی سفر:مصنفین ملاقات‘ کے عنوان سے ایک مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جس میں پروفیسر خالد جاوید(مشہور فکشن نگار) اور جناب خورشید اکرم (شاعر،افسانہ نگار اور مدیر) بطور پینلسٹ شریک ہوئے،مذاکرے کو ڈاکٹر فیضان الحق (ریسرچ اسسٹنٹ، این سی پی یو ایل) نے موڈریٹ کیا۔ اس مذاکرے میں دونوں معروف قلمکاروں کے قلمی سفر پر گفتگو کی گئی اور ان کی تخلیقات کے حوالے سے اہم سوالات بھی کیے گئے جن کا دونوں قلمکاروں نے نہایت خوبصورتی سے جواب دیا۔

پروفیسر خالد جاوید نے اپنے تخلیقی سفر کے آغاز سے متعلق خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اہم محرکات کی نشاندہی کی اورکہا کہ میری پہلی تخلیق دس سے بارہ سال کی عمر میں ہی منظرعام پر آگئی تھی۔ تخلیق کار بہت حساس ذہن کا حامل ہوتا ہے۔ اس کی حساسیت اس کو ہمیشہ بے چین رکھتی ہے جو مختلف سطحوں پر تخلیقی عمل میں کام کرتی ہے،اس عمل میں تخلیق کار ایک بالکل مختلف دنیا کی سیر کررہا ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ کہانی لکھنے کے بعد لمبے وقفے تک میں اس کی گرفت میں رہتا ہوں لیکن دنیا کی خوشیاں اور دیگر مسائل ہمیں دوبارہ اپنی اصل میں لوٹنے پر مجبور کردیتے ہیں۔ اپنی تخلیقات میں موجود تاریکی، دھند اور خوف کی فضا سے متعلق استفسار کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ دنیا کی کوئی چیز حقیقی اور خوبصورت نہیں ہے، بدصورتی یا خوبصورتی دونوں کے معانی ایک دوسرے میں گڈمڈ ہوجاتے ہیں۔ خوبصورت صرف خدا کی ذات ہے اس لیے دنیا کو دیکھنے کا یہ میرا اپنا زاویہ ہے۔ جب کوئی حقیقت ایک بار آشکار ہوجاتی ہے تو اسے دہرانے میں کوئی قباحت نہیں ہے کیونکہ میں تخلیق کے عمل کو مراقبے کا عمل سمجھتا ہوں، اور مراقبے میں ایک ہی لفظ کا مسلسل ورد کیا جاتا ہے۔

آج کے دوسرے قلمکار جناب خورشید اکرم نے اپنے تخلیقی سفر کے اسباب و محرکات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لکھنا سرنگ کے اندر سفر کرنے جیسا عمل ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ تخلیق سے قبل اور اس کے بعد کی دنیا بالکل مختلف ہوتی ہے۔ کوئی بھی فن پارہ پڑھنے یا لکھنے کے بعد ہم وہ نہیں رہتے جو پہلے تھے۔ اپنی تخلیقات میں موجود زندگی، سماج اور فرد کے متعلق استفسار کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سیاسیات اور سماجیات میری فکری تشکیل میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔زندگی کے عناصر میں ان کی شمولیت ضروری ہے اس لیے میں زندگی اور محبت کو اپنی تخلیقات کا بنیادی محرک تصور کرتا ہوں۔ایک تخلیق کار کی انفرادیت یہی ہے کہ وہ قارئین کے ذہنوں کو مختلف طور پر متاثر کرے۔ فکشن اور نظم کی اصناف پر گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ شاعری کرنے کا عمل ناو¿ پر دریا پار کرنے جیسا اور افسانہ لکھنے کا عمل تیر کر دریا پار کرنے جیسا ہے۔ شاعری کی زبان اپنے مرکز سے زیادہ آزاد ہوتی ہے۔ کوئی بھی موضوع خود طے کرتا ہے کہ وہ کس ہیئت میں بہتر طور پر ڈھل سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں فکشن کے ساتھ نظمیں بھی لکھتا رہا ہوں۔

مذاکرے کے اختتام سے قبل انٹریکٹیو سیشن میں مختلف سامعین نے اپنے پسندیدہ قلمکاروں سے کئی اہم سوالات کیے جن کا دونوں قلمکاروں نے تسلی بخش جواب دیا اور فن پارہ تخلیق کرنے و پڑھنے کے متعلق اہم نکات کی جانب رہنمائی بھی کی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande