مدھیہ پردیش اسمبلی میں دہلی مظاہرے کو لے کر ہوئے ہنگامے کے درمیان پانچ بل منظور
بھوپال، 22 جولائی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش اسمبلی کے مانسون اجلاس کے تیسرے دن بدھ کے روز ایوان میں زبردست سیاسی ڈرامہ دیکھنے کو ملا۔ دہلی کے جنتر منتر پر طلبہ کے مظاہرے کو لے کر اہم اپوزیشن پارٹی کانگریس کے اراکینِ اسمبلی کے ہنگامے کے درمیان حکومت نے ا
ایم پی اسمبلی کا فائل فوٹو


بھوپال، 22 جولائی (ہ س)۔

مدھیہ پردیش اسمبلی کے مانسون اجلاس کے تیسرے دن بدھ کے روز ایوان میں زبردست سیاسی ڈرامہ دیکھنے کو ملا۔ دہلی کے جنتر منتر پر طلبہ کے مظاہرے کو لے کر اہم اپوزیشن پارٹی کانگریس کے اراکینِ اسمبلی کے ہنگامے کے درمیان حکومت نے اسمبلی میں پانچ بل منظور کرا لیے۔

ایوان میں منظور کیے گئے یہ پانچ بل:

٭بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) ترمیمی بل

٭ مدھیہ پردیش نجی یونیورسٹی کے قیام اور نظامت (ترمیم) بل-2026

٭ مدھیہ پردیش پنچایت راج اور گرام سوراج (ترمیم) بل-2026

٭ مدھیہ پردیش گڈز اینڈ سروسز ٹیکس (ترمیم) بل-2026

٭ مدھیہ پردیش تنسیخ بل-2026

مدھیہ پردیش اسمبلی میں بدھ کے روز کانگریس اراکینِ اسمبلی ہاتھوں میں کالی پٹی باندھ کر پہنچے اور پیپر لیک معاملے کو لے کر مرکزی حکومت پر نشانہ سادھا۔ وقفۂ صفر میں حزب اختلاف رہنما امنگ سنگھار نے دہلی میں طلبہ کے ساتھ ہوئی مار پیٹ اور کانگریس رہنماوں کی گرفتاری کا معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے اسی مسئلے کو لے کر دھرنا اور مظاہرہ کیا تھا۔ سنگھار نے الزام لگایا کہ وزیر کیلاش وجے ورگیہ نے طلبہ کو ’’کیڑا‘‘ (کاکروچ) کہا تھا، اس لیے اس موضوع پر ایوان میں بحث کرائی جائے۔

اس مسئلے پر برسرِ اقتدار جماعت اور اپوزیشن کے درمیان شدید تکرار ہوئی۔ جواب میں عوامی تعمیرات کے وزیر راکیش سنگھ نے کہا کہ یہ معاملہ مدھیہ پردیش سے باہر کا ہے، اس لیے اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے مطابق اس پر بحث نہیں کرائی جا سکتی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ صبح 9 بجے کے بعد اطلاع دی گئی تھی، اس لیے بھی یہ قواعد کے مطابق نہیں ہے۔

اس کے بعد اسمبلی اسپیکر نریندر سنگھ تومر نے اس معاملے پر تحریک التوا کے تحت بحث کی اجازت نہیں دی۔ اس فیصلے کے بعد ایوان میں ہنگامہ ہو گیا۔ برسر اقتدار جماعت کے وزراء نے الزام لگایا کہ کانگریس یہ سب صرف میڈیا میں سرخیاں بٹورنے کے لیے کر رہی ہے۔ ہنگامہ جاری رہنے پر ایوان کی کارروائی 10 منٹ کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

اس کے بعد گوتم ٹیٹوال نے ایوان میں بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا ترمیمی بل 2026 کی تجویز بحث کے لیے پیش کی۔ بحث میں اپوزیشن کی طرف سے کسی رکن نے حصہ نہیں لیا۔ بی جے پی رکن اسمبلی جتیندر ادے سنگھ پنڈیا نے ترمیمی بل کی حمایت کی۔ بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا ترمیمی بل منظور ہو گیا ہے۔ رکن اسمبلی جتیندر ادے سنگھ پنڈیا نے کہا کہ معاملے میں سمجھوتے کے لیے عدالت میں درخواست دی جا سکتی ہے۔ سمجھوتے پر آخری فیصلہ عدالت کا ہوگا۔ انیرودھ مادھو مارو نے کہا کہ خواتین کے لیے سمجھوتے کا خصوصی انتظام کیا گیا ہے اور اس پر عدالت کی پوری نگرانی ہوگی۔ وزیر گوتم ٹیٹوال نے کہا کہ بلوا، عوامی مقام پر فحش حرکت، گالی گلوچ، شوہر یا اس سے متعلقہ خاتون کے ساتھ سنگدلی کرنے سے جڑی دفعات کو قابلِ سمجھوتہ بنایا گیا ہے۔ خواتین کی درخواست پر سمجھوتے کے عمل کا انحصار عدالت پر ہوگا۔

اس کے بعد ایوان میں مدھیہ پردیش نجی یونیورسٹی کے قیام اور نظامت (ترمیم) بل-2026 پر بحث شروع ہوئی۔ وزیر اعلیٰ تعلیم اندر سنگھ پرمار کی جانب سے پیش کردہ مدھیہ پردیش نجی یونیورسٹی کے قیام اور نظامت (ترمیم) بل-2026 پر بحث کے دوران کانگریس رکن اسمبلی مہیش پرمار نے اس کی مخالفت کی۔

مہیش پرمار نے کہا کہ حکومت نجی یونیورسٹی کھولنے کے لیے 25 ایکڑ زمین کی لازمی شرط اور 5 کروڑ روپے کی فکسڈ ڈپازٹ کی شرط ختم کر رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت یہ ترمیم کس کے دباو میں کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تبدیلی سے بڑی تعداد میں نجی یونیورسٹیاں کھلیں گی، لیکن کئی بعد میں بند ہو جائیں گی اور طلبہ سے فیس لے کر بھاگ سکتی ہیں۔ اس سے طلبہ کے مستقبل اور ریاست کے تعلیمی نظام پر برا اثر پڑے گا۔ مہیش پرمار نے مطالبہ کیا کہ بل کو فی الحال روکا جائے اور اس کا قانونی جائزہ لیا جائے۔ انہوں نے کہا، ’’دو کمروں کی یونیورسٹی سے نکلے طلبہ سے کیا نالے سے گیس بنائیں گے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے اسے ’’کالا بل‘‘ بتاتے ہوئے کہا کہ اس سے تعلیم کا معیار گرے گا۔

کانگریس رکن اسمبلی جھوما سولنکی نے کہا کہ یہ نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینے والا بل ہے، اس لیے ان کی پارٹی اس کی مخالفت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 25 ایکڑ زمین کی لازمی شرط اور 5 کروڑ روپے کی فکسڈ ڈپازٹ کی شرط ختم کرنے سمیت دیگر رعایت سے تعلیم کا معیار متاثر ہوگا۔ اس کا اثر سرکاری ڈگری کالجوں پر بھی پڑے گا اور طلبہ کے مفادات کا تحفظ کمزور ہوگا۔ کانگریس رکن اسمبلی پرتاب گريوال نے کہا کہ نجی یونیورسٹی کے قیام اور نظامت (ترمیم) بل کے ضوابط سے آنے والے وقت میں تعلیم کا معیار گرے گا۔

وزیر اعلیٰ تعلیم اندر سنگھ پرمار نے کہا کہ نجی یونیورسٹی کے قیام اور نظامت (ترمیم) بل میں واضح کیا گیا ہے کہ یونیورسٹی یا ڈگری کالج کھولنے کے لیے کن شرائط پر عمل کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عمارت میں ضروری کمروں کی تعداد، طلبہ کی گنجائش اور چلائے جانے والے نصاب کے لیے واضح معیار طے کیے گئے ہیں۔ ساتھ ہی، یو جی سی اور دیگر تعلیمی کونسلوں کے تمام قواعد و ضوابط پر عمل کرنا متعلقہ یونیورسٹی اور کالج کے لیے لازمی ہوگا۔ وزیر نے کہا کہ بل میں یہ بھی پروویژن ہے کہ نجی یونیورسٹیوں کی فیس کا تعین فیس ریگولیٹری کمیشن کرے گا، تاکہ طلبہ کے مفادات کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے بعد مدھیہ پردیش نجی یونیورسٹی ترمیمی بل 2026 منظور شدہ قرار دیا گیا۔

پنچایت اور دیہی ترقی کے وزیر پرہلاد پٹیل نے کہا کہ ریاستی حکومت نے ان گاوں کو ترجیح دی ہے، جہاں پنچایت بھون اور کمیونٹی ہال نہیں ہیں۔ حکومت پہلے ایسے مقامات پر ضروری عمارتوں کی تعمیر کرائے گی، تاکہ دیہی عوام کو بہتر سہولیات مل سکیں۔ اسی دوران اسمبلی میں مدھیہ پردیش پنچایت راج اور گرام سوراج (ترمیم) بل-2026 کو بحث کے بعد منظور کر لیا گیا۔ وزیر نے کہا کہ ترمیم کا مقصد پنچایتی نظام کو مزید موثر اور مضبوط بنانا ہے۔

اس کے بعد مدھیہ پردیش اسمبلی میں مدھیہ پردیش میڈیکل سائنس یونیورسٹی (ترمیم) بل-2026 پر بحث شروع ہوئی۔ ایوان میں بل کی مختلف دفعات پر برسر اقتدار اور اپوزیشن کے اراکین نے اپنی اپنی رائے رکھی۔ بحث کے دوران کانگریس رکن اسمبلی لکھن گھنگھوریا نے حکومت کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ جبل پور میں واقع میڈیکل سائنس یونیورسٹی کی تقسیم کی کوئی ٹھوس یا مضبوط ضرورت نہیں ہے۔

گھنگھوریا نے کہا کہ ’’نہ کوئی دشواری ہے، نہ کوئی پریشانی ہے، لیکن حکومت صرف اس لیے یونیورسٹی کو دو حصوں میں بانٹنا چاہتی ہے، کیونکہ اس نے ایسا طے کر لیا ہے۔‘‘ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک کے کسی بھی بڑے ریاست میں دو میڈیکل یونیورسٹیاں نہیں ہیں، جبکہ مدھیہ پردیش میں ایسا کیا جا رہا ہے۔ گھنگھوریا نے الزام لگایا کہ اس سے زمینوں کی خرید و فروخت بڑھے گی اور حکومت کو نجی زمین پر منحصر ہونا پڑے گا۔ انہوں نے حکومت سے اس فیصلے پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا۔ کانگریس رکن اسمبلی مہیش پرمار نے جبل پور میں میڈیکل یونیورسٹی کھولے جانے کی تجویز کی حمایت کی۔

وزیر صحت راجیندر شکلا نے کہا کہ علاقے میں ترقی ہو رہی ہے۔ صحت کے نظام کو وسعت دینے کے لیے زیادہ سے زیادہ میڈیکل کالج کھولنے پڑیں گے۔ تحقیق اور جدت طرازی جیسے کئی اہم کام ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں 13 اضلاع میں پی پی پی موڈ پر میڈیکل کالج لائے جا رہے ہیں۔ آیروید کالج 7 سے بڑھ کر 15 ہوئے اور ہومیوپیتھک کالجوں کی تعداد بھی بڑھی ہے۔ شکلا نے کہا کہ ہمیں مسئلہ آنے پر حل کے بجائے پہلے سے ذمہ داری لینی ہوگی اور پیشگی انتظامات کرنے چاہئیں۔ علاقائی توازن کو مد نظر رکھتے ہوئے میڈیکل کالج اور سہولیات کو بڑھایا جا رہا ہے۔ ابھی میڈیکل کالجوں میں ایم بی بی ایس کی 5,200 نشستیں ہیں، جنہیں آنے والے وقت میں 10,000 اور پی جی کی 2,000 سے زیادہ نشستیں کرنا ہے، تاکہ دیہی علاقوں میں ڈاکٹروں کی کمی کو دور کیا جا سکے، داخلوں کی تعداد کو بہتر بنایا جا سکے اور اچھی تحقیق کی جا سکے۔ بحث کے بعد ایوان میں بل کو منظور کر لیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی مدھیہ پردیش پنچایت راج اور گرام سوراج ترمیمی بل 2026 بھی اسمبلی میں منظور ہو گیا۔

اس کے بعد مدھیہ پردیش گڈز اینڈ سروسز ٹیکس ترمیمی بل 2026 پر بحث ہوئی اور بعد میں اسے بھی منظور کر لیا گیا۔ نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر ماليات جگدیش دیوڑا نے ایوان میں کہا کہ 2016 سے جی ایس ٹی نافذ ہوا۔ وقت فوقتاً کئی ترامیم کی گئیں تاکہ تاجروں اور ٹیکس دہندگان کو سہولت مل سکے۔ کئی دشواریاں ابھی بھی ہیں، جو وقت کے ساتھ سامنے آتی ہیں۔ اس قسم کی دشواریوں کو ترمیم کے ذریعے دور کر رہے ہیں اور جو تجاویز آتی ہیں وہ جی ایس ٹی کونسل کو بھی بھیجی جاتی ہیں۔ جی ایس ٹی سے حاصل ہونے والے تجربات کی بنیاد پر ترمیم کی جا رہی ہے۔ بھارتی پارلیمنٹ اور جی ایس ٹی کونسل میں اسے پہلے ہی منظور کیا جا چکا ہے، اسی لیے مدھیہ پردیش اسمبلی میں بھی اسے پاس کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چھوٹے تاجروں کے لیے یہ اہم ترمیم ہے۔ اب اس ترمیم کے تحت فروخت کے بعد سپلائر کو صرف نوٹ جاری کرنا ہوگا اور معاہدے کی لازمی شرط ختم ہو جائے گی۔ اس سے دشواری ختم ہوگی اور حکومت کو بھی آمدنی حاصل ہوگی۔ اگر انوائس میں زیادہ قیمت دکھا دی گئی ہو، مال کی واپسی ہوئی ہو یا سپلائی میں کمی پائی گئی ہو تو اس کا ٹیکسیشن میں براہِ راست ذکر نہیں ہو پاتا تھا، جس سے تنازعہ کی صورتِ حال بنتی تھی۔ اب ہم پوسٹ سیل ڈسکاونٹ کی دفعہ کو جوڑ رہے ہیں، جس سے کریڈٹ نوٹ کی بنیاد پر کام ہو جائے گا۔ ایک سال کے لیے کریڈٹ نوٹ جاری کیا جا سکے گا۔ یہ ریفنڈ سے متعلق انتظام کیا جا رہا ہے۔ پہلے 10 لاکھ روپے میں سے 9 لاکھ کا ریفنڈ 60 دنوں میں حاصل ہوتا تھا، لیکن اب یہ کام 7 دنوں میں ہوگا۔ 1,000 روپے کے ریفنڈ بھی اب منظور کیے جائیں گے۔ اس سے چھوٹے تاجروں کو بڑی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande