وزیر کیلاش وجے ورگیہ کی رہائش گاہ پر مظاہرہ کرنے پہنچا جوڑا حراست میں، سیکورٹی نظام پر بھی سوال اٹھے
اندور، 22 جولائی (ہ س)۔ ریاست کے شہری انتظامیہ کے وزیر کیلاش وجے ورگیہ کی اندور میں نندا نگر واقع رہائش گاہ کے باہر بدھ کے روز اس وقت ہنگامے کی صورتِ حال بن گئی، جب ایک جوڑا ان کے مبینہ بیان کے خلاف مظاہرہ کرنے پہنچ گیا۔ پولیس نے سمجھانے بجھانے کے
وزیر کیلاش وجے ورگیہ کی رہائش گاہ پر مظاہرہ کرنے پہنچا جوڑا حراست میں


وزیر کیلاش وجے ورگیہ کی رہائش گاہ پر مظاہرہ کرنے پہنچا جوڑا حراست میں


اندور، 22 جولائی (ہ س)۔ ریاست کے شہری انتظامیہ کے وزیر کیلاش وجے ورگیہ کی اندور میں نندا نگر واقع رہائش گاہ کے باہر بدھ کے روز اس وقت ہنگامے کی صورتِ حال بن گئی، جب ایک جوڑا ان کے مبینہ بیان کے خلاف مظاہرہ کرنے پہنچ گیا۔ پولیس نے سمجھانے بجھانے کے بعد بھی مظاہرہ ختم نہیں کرنے پر دونوں کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کے لیے تھانے پہنچا دیا۔ واقعے کے بعد وزیر کی رہائش گاہ کے سیکورٹی نظام کو لے کر بھی سوال اٹھنے لگے۔

اطلاع کے مطابق، پرہلاد پانڈے اور ان کی اہلیہ سنگیتا پانڈے ہاتھ میں آئین کا نسخہ لے کر وزیر کی رہائش گاہ پہنچے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ وزیر کے ایک مبینہ بیان اور دہلی میں تحریک چلانے والے طلبہ پر ہوئی پولیس کارروائی کے خلاف پرامن مظاہرہ کرنے آئے تھے۔ قابلِ ذکر ہے کہ اسمبلی میں کانگریس نے الزام لگایا تھا کہ نیٹ پیپر لیک کے مسئلے پر بحث کے دوران وزیر کیلاش وجے ورگیہ نے طلبہ اور مظاہرین کے لیے قابلِ اعتراض الفاظ کا استعمال کیا تھا۔ تاہم، وجے ورگیہ ان الزامات کو مسترد کر چکے ہیں۔

مظاہرے کے دوران پرہلاد پانڈے میڈیا سے بات چیت کر رہے تھے۔ اسی دوران پردیشی پورا تھانہ انچارج آر ڈی کانوا پولیس فورس کے ساتھ موقع پر پہنچے اور جوڑے کو وہاں سے ہٹنے کے لیے کہا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ وزیر اس وقت اندور میں نہیں، بلکہ بھوپال میں موجود تھے اور بغیر پیشگی اجازت کے کسی وزیر کی رہائش گاہ کے باہر مظاہرے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ پولیس کے مطابق، سمجھانے کے باوجود جوڑا مظاہرے پر بضد رہا اور سڑک پر بیٹھنے سے آمد و رفت اور قانون و انتظامیہ متاثر ہونے کا خدشہ تھا۔ اس کے بعد دونوں کو احتیاطی تدبیر کے طور پر حراست میں لے کر تھانے لے جایا گیا۔ تھانہ انچارج آر ڈی کانوا نے بتایا کہ معاملے میں پوچھ گچھ کی جا رہی ہے اور مزید کارروائی تحقیقات کی بنیاد پر کی جائے گی۔

حراست میں لیے جانے سے پہلے پرہلاد اور سنگیتا پانڈے نے کہا کہ وہ وزیر کے مبینہ بیان پر اعتراض درج کرانے پہنچے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پرامن احتجاج کرنا ہر شہری کا آئینی حق ہے اور ان کا مظاہرہ مکمل طور پر پرامن تھا۔

واقعے کے بعد وزیر کی رہائش گاہ کے سیکورٹی نظام پر بھی سوال کھڑے ہوئے۔ بتایا جا رہا ہے کہ صبح سے ممکنہ مظاہرے کو لے کر سوشل میڈیا پر پیغامات گردش کر رہے تھے اور وزیر کے گھر کے باہر پولیس فورس اور بیری کیڈنگ بھی تعینات تھی۔ اس کے باوجود مظاہرین بغیر کسی روک ٹوک کے وزیر کی رہائش گاہ تک پہنچ گئے۔ جائے وقوعہ پر موجود لوگوں کا کہنا ہے کہ پولیس تب متحرک ہوئی، جب مظاہرہ شروع ہو چکا تھا اور میڈیا کوریج کے لیے موقع پر پہنچ گئی تھی۔ اس پورے واقعے کے بعد وی آئی پی سیکورٹی نظام اور انٹیلی جنس نیٹ ورک کی مستعدی کو لے کر بحث تیز ہو گئی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande