
ممبئی، 21 جولائی(ہ س)۔بھارتی کوارٹر۔مائلر وشال تھیناراسو کیالوجھی(وشال ٹیکے) گلاسگو میں ہونے والے کامن ویلتھ گیمز۔2026میں اپنی پہلی مہم کے لئے پوری طرح سے تیار ہیں۔ 22 سالہ وشال نے رواں سیزن میں شاندار کارکردگی کے ذریعے خود کو ملک کے صفِ اول کے اسپرنٹرز میں شامل کر لیا ہے۔
وشال نے اسی سال 400 میٹر دوڑ 44.98 سیکنڈ میں مکمل کر کے 45 سیکنڈ کی حد عبور کرنے والے پہلے ہندوستانی مرد ایتھلیٹ بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ ان کی یہ کارکردگی موجودہ قومی ریکارڈ بھی ہے۔
چار مرتبہ کے قومی چمپئن وشال نے حالیہ برسوں میں ایشیائی سطح پر بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ انہوں نے’ایشین ایتھلیٹکس چمپئن شپ‘ میں ہندوستان کو ’مخلوط 4×400 میٹر ریلے‘ میں طلائی اورمردوں کی 4×400 میٹر ریلے میں چاندی کا تمغہ دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ عالمی درجہ بندی میں ٹاپ 60 رنرز میں شامل وشال کو اب کامن ویلتھ گیمز میں ہندوستان کی بڑی امیدوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
اپنے پہلے کامن ویلتھ گیمز سے قبل وشال نے کہا،میں جیت کے جذبے کے ساتھ میدان میں اتر رہا ہوں۔ کئی ماہ کی سخت محنت، دیانت داری، نظم و ضبط، تسلسل اور خود اعتمادی نے مجھے یہاں تک پہنچایا ہے۔ مجھے اپنی تیاری اور اپنے کوچ جیسن ڈاسن پر مکمل بھروسہ ہے۔ میرا مقصد ٹریک پر اپنی بہترین کارکردگی پیش کرنا اور ہر سیکنڈ کو قیمتی بنانا ہے۔ میں اپنی صلاحیتوں کی کوئی حد مقرر نہیں کرتا اور ہر مقابلے میں خود کو مزید بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہوں۔ ہندوستان کی نمائندگی کرنا میری سب سے بڑی تحریک ہے اور ملک کا نام روشن کرنے کے لیے میں اپنا سب کچھ لگا دوں گا۔
وشال نے اپنی کامیابی کا سہرا ’انسپائر انسٹی ٹیوٹ آف اسپورٹ (آئی آئی ایس)‘کو بھی دیا۔ ان کا کہنا تھا،’کامیابی کبھی اکیلے نہیں ملتی اور خوش قسمتی سے میرے ساتھ ایک بہترین ٹیم موجود ہے۔ آئی آئی ایس نے عالمی معیار کی کوچنگ، اسپورٹس سائنس، غذائی رہنمائی، ریکوری اور ذہنی تربیت سمیت ہر ممکن سہولت فراہم کی، جس نے مجھے مسلسل بہتر بننے کا اعتماد دیا۔‘
ہندوستانی مردوں کی 400 میٹر دوڑ میں مسلسل بہتری پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے وشال نے کہا، ’ایسی نسل کا حصہ ہونا میرے لیے اعزاز ہے جو ہندوستانی ایتھلیٹکس کی تصویر بدل رہی ہے۔ ہم یہ ثابت کر رہے ہیں کہ ہندوستانی کھلاڑی دنیا کے بہترین ایتھلیٹس کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ میری ہر کامیابی صرف میری نہیں بلکہ ان نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بھی ایک نئی مثال ہے جو ایک دن ہندوستان کی جرسی پہننے کا خواب دیکھتے انہوں نے اپنی تیاریوں کے بارے میں بتایا’گزشتہ چند ماہ میں میری ٹریننگ کی بنیاد جسمانی، ذہنی اور تکنیکی ہر سطح پر تسلسل رہی ہے۔ ہر تربیتی سیشن نے مجھے مزید مضبوط، تیز اور بڑے مقابلوں کے لیے تیار کیا ہے۔ اب میں دباؤ میں بھی پُرسکون رہنا، اپنی تیاری پر اعتماد رکھنا اور اہم مواقع پر بہترین کارکردگی دکھانا سیکھ چکا ہوں۔‘
ہندوستان کی نمائندگی کو اپنے کیریئر کا سب سے بڑا اعزاز قرار دیتے ہوئے وشال نے کہا،ہندوستانی جرسی پہننا صرف ملک کی نمائندگی کرنا نہیں بلکہ کروڑوں عوام کی امیدوں اور خوابوں کو اپنے ساتھ لے کر میدان میں اترنا ہے۔ ہر بار جب میں دوڑتا ہوں تو فخر اور ذمہ داری دونوں کا احساس ہوتا ہے۔ میں تمام ملک والوں کا ان کی محبت اور حوصلہ افزائی کے لیے دل سے شکر گزار ہوں اور وعدہ کرتا ہوں کہ ٹریک پر اپنا سو فیصد دوں گا۔قومی ریکارڈ، چار قومی خطابات اور ایشیائی سطح پر تمغے جیتنے کے بعد وشال ٹی کے اب گلاسگو میں ہونے والے کامن ویلتھ گیمز میں عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے اور ہندوستانی اسپرنٹ کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کے عزم کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan