
جنتر منتر کے احتجاج میں لگنے والے نعروں پر مہاراشٹر بی جے پی کے سوالات، اپوزیشن سے وضاحت کا مطالبہممبئی ، 21 جولائی (ہ س)۔ مہاراشٹر بھارتیہ جنتا پارٹی کے ریاستی ترجمان نوناتھ بان نے دہلی کے جنتر منتر پر منعقدہ احتجاج کے دوران لگائے گئے بعض نعروں پر سوال اٹھاتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں سے اس معاملے پر اپنا مؤقف واضح کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر احتجاج طلبہ کے مسائل سے متعلق تھا تو اس کے دوران بعض متنازع نعروں اور بیانات کی گنجائش کیوں پیدا ہوئی۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نوناتھ بان نے کہا کہ احتجاج کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف تشدد پر مبنی باتیں کیوں کی گئیں اور دفعہ 370 کی منسوخی پر ناراضی ظاہر کرنے والے نعرے کس مقصد کے تحت لگائے گئے۔ انہوں نے یہ بھی سوال کیا کہ ایسے نعرے کیوں سنائی دیے جن میں مذہبی رنگ نمایاں تھا اور بعض مذہبی شخصیات کے خلاف نامناسب زبان استعمال کی گئی۔انہوں نے کہا کہ جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج کو طلبہ کی تحریک قرار دیا جا رہا ہے، لیکن اس میں ایسے عناصر کی موجودگی کے الزامات سامنے آئے ہیں جنہیں عام طور پر ٹکڑے ٹکڑے گینگ سے جوڑا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں حقیقت عوام کے سامنے آنی چاہیے۔ نوناتھ بان نے اپوزیشن کے رہنماؤں، بالخصوص سنجے راؤت سے مطالبہ کیا کہ وہ واضح کریں آیا یہ احتجاج واقعی صرف طلبہ کے مسائل تک محدود تھا یا اس میں دیگر سیاسی اور نظریاتی گروہوں نے بھی کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق عوام کو اس بارے میں صاف اور دوٹوک جواب ملنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی ملک میں ہم آہنگی، بھائی چارے اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے کے خواہاں ہیں تاکہ مختلف طبقات باہمی تعاون اور امن کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ اس کے برعکس انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض اپوزیشن رہنما نوجوانوں کو اشتعال دلا کر کشیدگی اور انتشار پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نوناتھ بان نے کہا کہ ملک کے عوام ایسے کسی بھی ایجنڈے کو قبول نہیں کریں گے جو معاشرے میں نفرت یا تصادم کو فروغ دے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ عوام اتحاد، امن اور بھائی چارے کی سیاست کو ترجیح دیں گے اور ملک میں ہم آہنگی کا ماحول برقرار رہے گا۔ہندوستھان سماچار--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے