
چنئی، 20 جولائی (ہ س)۔ تمل ناڈو کی مرکزی اپوزیشن پارٹی آل انڈیا انا دراوڑ منیترا کزگم (اے آئی اے ڈی ایم کے) کے اندرونی اختلافات ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ پارٹی کے سابق وزیر اور مئیلم حلقہ کے ایم ایل اے سی وی شنموگم کی قیادت میں پارٹی کے 1,300 سے زیادہ عہدیداروں اور کارکنوں نے پیر کو اپنے تنظیمی عہدوں سے اجتماعی طور پر استعفیٰ دے دیا۔ وہ چنئی میں اے آئی اے ڈی ایم کے ہیڈکوارٹر پہنچے اور آفس منیجر مہالنگم کو اپنا استعفیٰ حوالے کر دیا۔
سی وی شنموگم اپنے حامیوں کے ساتھ پارٹی کے جنرل سکریٹری ایڈاپڈی کے پلانی سوامی سے ملاقات کے لیے پارٹی ہیڈکوارٹر گئے تھے۔ تاہم پلانی سوامی کے موجود نہیں ہونے کی وجہ سے انہوں نے آفس منیجر کے ذریعے اپنا استعفیٰ پیش کیا۔
بتایا جاتا ہے کہ حالیہ تنظیمی ردوبدل میں سی وی شنموگم کو ضلع سکریٹری کا عہدہ نہیں دیئے جانے سے ان کا گروپ ناراض تھا۔ پارٹی کے اندر ایڈاپڈی کے پلانیسوامی اور سی وی شنموگم کے درمیان دیرینہ اختلافات چلے آرہے ہیں۔ اس دوران ایس پی ویلومنی کی قیادت والے دھڑے کا بھی قیادت سے ٹکراو تھا۔
اسی سلسلے میں، ایڈاپڈی کے پلانیسوامی نے تمیلگا ویتری کزگم (ٹی وی کے)کی حمایت میں کام کرنے کے الزام میں سی وی شنموگم کے حامیوں اور کارکنان کو پارٹی سے نکالنے کا حکم دیا تھا۔ بعد میں ایس پی ویلومنی کی قیادت والا گروپ قیادت کے ساتھ سمجھوتے کے بعد دوبارہ سرگرم ہو گیا اور اسے تنظیم کے اندر اہم ذمہ داریاں سونپی گئیں۔
پارٹی قیادت نے ایس پی ویلومنی اور نتھم وشواناتھن کو اے آئی اے ڈی ایم کے کا ڈپٹی جنرل سکریٹری مقرر کیا، جبکہ سی وی شنموگم اور ان کے حامیوں کو کوئی بڑی تنظیمی ذمہ داری نہیں ملی۔ اس سے شنموگم دھڑے کی ناراضگی مزید بڑھ گئی ، جس کے بعد انہوں نے اجتماعی طور پر استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔
اپنے استعفے جمع کرانے سے پہلے سی وی شنموگم اور ان کے حامیوں نے چنئی میں سابق وزیر اعلیٰ اور اے آئی اے ڈی ایم کے کی سابق جنرل سکریٹری جے جے للیتا کی یادگار پر خراج عقیدت پیش کیا۔ اس کے بعد وہ ہیڈ کوارٹر گئے اور اپنے استعفے پیش کر دیئے۔
شنموگم کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہتندیونم، مئیلم، وکراونڈی اور سینجی سمیت مختلف علاقوں کے 18 سے زیادہ یونین سکریٹریوں کے علاوہ ریاست، ضلع، شہر اور دیگر تنظیمی اکائیوں کے عہدیداروں کی ایک بڑی تعداد نے بھی اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
اس دوران شنموگم کے حامیوں نے پارٹی ہیڈکوارٹر کے باہر ایڈاپڈی کے پلانی سوامی کے خلاف نعرے لگائے۔ ”اے آئی اے ڈی ایم کے کوبرباد نہ کرو“ اور ”یہ ضد کیوں؟“ جیسے نعروں کچھ وقفے کے لئے مرینا کے علاقے میں کشیدہ ماحول پیدا ہو گیا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ پیش رفت آئندہ انتخابات سے قبل اے آئی ڈی ایم کے کے اندرونی چیلنجوں کو مزید گہرا کر سکتی ہے۔
ہندوستھا ن سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد