
نئی دہلی، 17 جولائی (ہ س )۔
ویلفیئر پارٹی آف انڈیا نے ملک میں مجوزہ حد بندی (Delimitation) کے عمل پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وسیع قومی اتفاقِ رائے، غیر جانب دار سائنسی سروے اور تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بغیر اس عمل کو آگے بڑھانا وفاقی نظام، جمہوری نمائندگی اور سماجی انصاف کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔
پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اگرچہ حد بندی ایک آئینی عمل ہے جس کا مقصد آبادی کی بنیاد پر عوام کو منصفانہ نمائندگی فراہم کرنا ہے، لیکن موجودہ حالات میں جلد بازی یا یکطرفہ انداز میں اس کا نفاذ ملک کے سیاسی اور علاقائی توازن کو بری طرح متاثر کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر حد بندی صرف موجودہ آبادی کے اعداد و شمار کی بنیاد پر، کسی غیر جانب دار اور سائنسی جائزے کے بغیر کی گئی تو اس سے چند زیادہ آبادی والی ریاستوں کو غیر معمولی سیاسی برتری حاصل ہو جائے گی، جبکہ نسبتاً کم آبادی والی ریاستوں کی پارلیمنٹ اور قومی پالیسی سازی میں مو¿ثر نمائندگی کمزور پڑ جائے گی۔ اس طرح ملک کے وفاقی ڈھانچے کی روح متاثر ہوگی۔
ڈاکٹر الیاس نے خبردار کیا کہ اگر انتخابی حلقوں کی ازسرِنو تشکیل کے دوران مناسب آئینی اور قانونی تحفظات فراہم نہ کیے گئے تو ایسے حلقے، جہاں مسلمان، دلت، آدیواسی اور دیگر محروم طبقات اپنی مو¿ثر نمائندگی رکھتے ہیں، تقسیم یا کمزور ہو سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف ان طبقات کی سیاسی آواز متاثر ہوگی بلکہ ہندوستانی جمہوریت کے تکثیری اور ہمہ گیر کردار کو بھی نقصان پہنچے گا۔
انہوں نے کہا کہ حد بندی جیسے انتہائی اہم قومی معاملے پر کسی بھی فیصلے سے قبل تمام سیاسی جماعتوں، ریاستی حکومتوں، آئینی ماہرین، سول سوسائٹی اور دیگر متعلقہ فریقوں سے جامع مشاورت ناگزیر ہے۔ اس عمل میں جلد بازی یا یکطرفہ رویہ جمہوری اداروں پر عوام کے اعتماد کو مجروح کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب ملک اس وقت بے روزگاری، مہنگائی، تعلیم، صحت اور معاشی چیلنجز جیسے سنگین مسائل سے نبرد آزما ہے، ایسے وقت میں حد بندی کے نام پر ایک متنازع بحث چھیڑنا قومی یکجہتی کو مضبوط کرنے کے بجائے علاقائی تقسیم اور سیاسی کشیدگی کو بڑھا سکتا ہے۔
ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ ہندوستان کی اصل طاقت اس کے تنوع، تکثیری اقدار اور اشتراکی وفاقی نظام میں مضمر ہے۔ حد بندی کا کوئی بھی عمل ان بنیادی اصولوں کو مستحکم کرنے والا ہونا چاہیے، نہ کہ انہیں کمزور کرنے والا۔ انہوں نے تمام جمہوری قوتوں، سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی کی تنظیموں اور باشعور شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے پر بیدار رہیں اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اپنی آواز بلند کریں کہ حد بندی کا عمل سیاسی مفادات کے بجائے انصاف، مساوات، وفاقی توازن اور حقیقی جمہوری نمائندگی کے اصولوں کے مطابق انجام پائے۔
ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے مطالبات
1. حد بندی کے عمل کو اس وقت تک مو¿خر رکھا جائے جب تک آل پارٹی اجلاس، تمام ریاستوں سے جامع مشاورت اور ایک غیر جانب دار سائنسی سروے کے ذریعے قومی اتفاقِ رائے قائم نہ ہو جائے، اور سروے کی رپورٹ عوام کے سامنے پیش نہ کر دی جائے۔
2. تمام ریاستوں، خطوں اور مختلف سماجی طبقات کی نمائندگی پر مشتمل ایک آزاد، خودمختار اور ماہرین پر مشتمل حد بندی کمیشن تشکیل دیا جائے تاکہ پورا عمل شفاف، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انداز میں انجام پائے۔
3. انتخابی حلقوں کی نئی حد بندی کے دوران اقلیتوں، دلتوں، آدیواسیوں اور دیگر محروم طبقات کی مو¿ثر سیاسی نمائندگی کے تحفظ کے لیے ضروری آئینی ضمانتیں فراہم کی جائیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais