
اے ایم یو اور اور اِنفلیب نیٹ سنٹر کے درمیان یادداشت مفاہمت پر دستخط، اے ایم یو علاقائی سطح کے پروگرام کی میزبانی کرے گا
علی گڑھ، 17 جولائی (ہ س) ڈیجیٹل لائبریری خدمات کے استحکام اور علمی ابلاغ و تعاون کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) نے اِنفلیب نیٹ سنٹر، گاندھی نگر کے ساتھ ایک یادداشتِ مفاہمت پر دستخط کیے۔ اس سے قبل یونیورسٹی کی مولانا آزاد لائبریری کے زیر اہتمام انفلیب نیٹ خدمات سے متعلق ایک بیداری پروگرام منعقد کیا گیا۔ اس دوران اِنفلیب نیٹ کی مختلف ڈیجیٹل تحقیقی خدمات اور اعلیٰ تعلیم میں ان کے اہم کردار کے بارے میں شرکاء کو آگاہ کیا گیا۔
یادداشت مفاہمت پر دستخط کی تقریب میں اے ایم یو وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے اسے یونیورسٹی کے لیے ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تعاون یونیورسٹی کے ڈیجیٹل تحقیقی بنیادی ڈھانچے کو مستحکم کرے گا، قومی سطح کی تحقیقی معاونتی خدمات تک رسائی میں اضافہ کرے گا، علمی ابلاغ کو بہتر بنائے گا اور اساتذہ، محققین اور طلبہ کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ شراکت داری یونیورسٹی کی علمی ترقی اور تحقیقی برتری میں نمایاں کردار ادا کرے گی۔یادداشت مفاہمت سے ڈیجیٹل لائبریری خدمات، تحقیقی معاونت، علمی ابلاغ، استعداد سازی اور علمی اختراع کے شعبوں میں ادارہ جاتی تعاون کو فروغ ملے گا۔
اس موقع پر اِنفلیب نیٹ سنٹر کی ڈائریکٹر پروفیسر دیویکا پی مدلی نے اعلان کیا کہ انفلیب نیٹ سنٹر علاقائی سطح کا ایک پروگرام منعقد کرے گا، جس کے لیے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نوڈل یونیورسٹی ہوگی۔ اس اعلان کا پرتپاک خیرمقدم کیا گیا۔ توقع ہے کہ اس سے خطے میں ایک ممتاز علمی و تحقیقی مرکز کے طور پر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کردار کو مزید تقویت ملے گی۔
اس سے قبل انفلیب نیٹ خدمات سے متعلق منعقدہ بیداری پروگرام میں یونیورسٹی لائبریرین پروفیسر نشاط فاطمہ نے اپنے استقبالیہ خطاب میں یونیورسٹی کے ڈیجیٹل ڈھانچے اور علمی سرگرمیوں کو مضبوط بنانے میں ادارہ جاتی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی شراکت داری علمی برتری اور اشتراک کے لیے نئے مواقع پیدا کرتی ہیں۔
اِنفلیب نیٹ سنٹر کی ڈائریکٹر پروفیسر دیویکا پی مدلی نے اپنے کلیدی خطاب میں ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم و تحقیق کو مستحکم کرنے سے متعلق سنٹر کے اہم اقدامات کا جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے آرٹیکل پروسیسنگ چارج (اے سی پی) سپورٹ اقدام، ون نیشن ون سبسکرپشن اور‘ شودھ چکر’ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ یہ اقدامات محققین کو معیاری علمی وسائل تک رسائی، علمی دیانت داری کے فروغ اور اداروں کے درمیان مشترکہ تحقیق میں مدد کررہے ہیں۔ انہوں نے ریسرچ مینجمنٹ، ڈیجیٹل لائبریریوں، ادارہ جاتی ذخائر، سرقہ کی نشاندہی، محققین کے پروفائل اور علمی ابلاغ میں معاون انفلیب نیٹ کے مختلف پلیٹ فارمز کے بارے میں بھی بتایا۔
اے ایم یو کے پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان نے کہا کہ انفلیب نیٹ ہندوستان میں علمی برادری کے لیے ایک مضبوط ڈیجیٹل سپورٹ نظام کے طور پر ابھرا ہے۔ انہوں نے علمی معلومات، ڈیجیٹل وسائل اور تحقیقی بنیادی ڈھانچے تک بلا رکاوٹ رسائی فراہم کرنے میں سنٹر کے تعاون کو سراہا۔
فیکلٹی آف سوشل سائنسز کے ڈین پروفیسر اکرام حسین نے اعلیٰ تعلیم میں علمی نیٹ ورکس کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ انفلیب نیٹ جیسے قومی علمی اطلاعاتی نیٹ ورکس کے ذریعہ اشتراک سے تحقیق کے معیار، وسائل کے اشتراک اور بین شعبہ جاتی تعاون میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے، جس سے اساتذہ، اسکالرز اور طلبہ سبھی مستفید ہوتے ہیں۔
انفلیب نیٹ سنٹر کے سائنس داں ڈاکٹر ابھیشیک کمار نے انٹرایکٹیو تکنیکی سیشن میں انفلیب نیٹ کی متعدد خدمات کے مؤثر استعمال کا عملی مظاہرہ کیا اور بتایا کہ محققین اور ادارے ڈیجیٹل تحقیقی معاونتی پلیٹ فارمز سے زیادہ سے زیادہ فائدہ کیسے اٹھا سکتے ہیں۔
پروگرام کی نظامت مولانا آزاد لائبریری کے اسسٹنٹ لائبریرین ڈاکٹر سید شاذ حسین نے کی، جب کہ ڈپٹی لائبریرین ڈاکٹر آصف فرید صدیقی نے کلمات تشکر ادا کئے۔
ہندوستھان سماچار
--------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ