اے ایم یو کے ریسرچ اسکالر نے کولمبیا میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس میں خواجہ سراؤں کی مالیاتی شمولیت پر مبنی تحقیقی مقالہ پیش کیا
اے ایم یو کے ریسرچ اسکالر نے کولمبیا میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس میں خواجہ سراؤں کی مالیاتی شمولیت پر مبنی تحقیقی مقالہ پیش کیا علی گڑھ، 17 جولائی (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی(اے ایم یو) کے شعبہ معاشیات کے سینئر ریسرچ فیلو مسٹر رمیز راجا نے ح
رمیز راجہ


اے ایم یو کے ریسرچ اسکالر نے کولمبیا میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس میں خواجہ سراؤں کی مالیاتی شمولیت پر مبنی تحقیقی مقالہ پیش کیا

علی گڑھ، 17 جولائی (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی(اے ایم یو) کے شعبہ معاشیات کے سینئر ریسرچ فیلو مسٹر رمیز راجا نے حال ہی میں کولمبیا کے شہر کیلی میں واقع یونیورسٹی آئی سی ای ایس آئی میں منعقدہ انٹرنیشنل ایسوسی ایشن فار فیمینسٹ اکنامکس (آئی اے ایف ایف ای) کی 34ویں سالانہ کانفرنس میں اپنا تحقیقی مقالہ پیش کیا۔ اس بین الاقوامی کانفرنس میں ان کی شرکت کے تمام اخراجات آئی اے ایف ایف ای نے برداشت کیے۔

پروفیسر محمد اعظم خاں کی نگرانی میں ریسرچ کر نے والے مسٹر رمیز نے ‘‘بینکاری اور مالیاتی خدمات تک رسائی میں توسیع: دہلی این سی آر، ہندوستان میں خواجہ سراؤں کی شمولیت کے عوامل اور چیلنجز’’ کے عنوان پر مقالہ پیش کیاجو ان کی ریسرچ پر مبنی ہے۔ اس تحقیق میں ہندوستان میں خواجہ سراؤں کو درپیش مالیاتی محرومی کا جائزہ لیا گیا ، حالانکہ سپریم کورٹ نے 2014 میں ان کی صنفی شناخت کو قانونی طور پر تسلیم کیا تھا۔ تحقیق میں کہا گیا کہ قانونی شناخت اگرچہ اہم ہے، تاہم بامعنی مالی و معاشی شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے یہ کافی نہیں ہے۔

اپنے مقالے میں مسٹر رمیز نے خواجہ سراؤں میں معاشی خودمختاری، وقار اور سماجی شرکت کے فروغ میں مالی شمولیت کے اہم کردار کو اجاگر کیا۔ تحقیق میں رسمی مالیاتی خدمات تک رسائی کی راہ میں حائل بڑی رکاوٹوں کی نشاندہی کی گئی، جن میں دستاویزات سے متعلق مشکلات، امتیازی سلوک، مالی خواندگی کی کم سطح اور روزگار کے محدود مواقع شامل ہیں۔

اس مقالے کو بین الاقوامی اسکالرز اور محققین نے سراہا اور اس پر نسائی معاشیات، مالیاتی شمولیت اور سماجی انصاف کے حوالے سے بامعنی گفتگو ہوئی۔ اس پیش کش نے عالمی اہمیت کے حامل ایک مسئلے پر اے ایم یو میں ہونے والی تحقیق کو اجاگر کیا اور شواہد پر مبنی ایسی تحقیق کو فروغ دینے کے تئیں یونیورسٹی کے عزم کی عکاسی کی جو جامع اور مساوی ترقی میں معاون ثابت ہو۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande