مختلف اقلیتی اور سماجی تنظیموں کے وفد کی محمد فہیم قریشی سے ملاقات
حیدرآباد، 11 جولائی (ہ س)۔ تلنگانہ مائناریٹیز ریزیڈنشیل ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنس سوسائٹی(ٹمریز) کے نائب صدرصدرمحمد فہیم قریشی سے مختلف سماجی، اقلیتی اورشہری حقوق کی تنظیموں کے نمائندہ وفد نے ملاقات کرتے ہوئے موجودہ ملکی حالات، اقلیتوں کودرپیش مسائل
مختلف اقلیتی اور سماجی تنظیموں کے وفد کی محمد فہیم قریشی سے ملاقات


حیدرآباد، 11 جولائی (ہ س)۔ تلنگانہ مائناریٹیز ریزیڈنشیل ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنس سوسائٹی(ٹمریز) کے نائب صدرصدرمحمد فہیم قریشی سے مختلف سماجی، اقلیتی اورشہری حقوق کی تنظیموں کے نمائندہ وفد نے ملاقات کرتے ہوئے موجودہ ملکی حالات، اقلیتوں کودرپیش مسائل اورکمیونٹی کی فلاح وبہبودسے متعلق امورپرتفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ ملاقات کرنے والے وفد میں جماعت اسلامی ہند تلنگانہ کے صدر محمد اظہرالدین، تلنگانہ بارکونسل کے رکن ایڈوکیٹ ایم اے کے مقیت اور ان کی ٹیم، تحریک مسلم شبان کے صدرمحمد مشتاق ملک، ایسوسی ایشن فارپروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کے جنرل سکریٹری ڈاکٹرشیخ محمدعثمان اور تلنگانہ اسٹیٹ درگاہ ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری حافظ سید کلیم اللہ حسینی المعروف کاشف پاشا شامل تھے۔وفد نے ریاست میں جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کے دوران عوام کو پیش آنے والی مشکلات سے آگاہ کرتے ہوئے حکومت سے اپیل کی کہ وزیراعلی اے ریونت ریڈی سے رجوع کرتے ہوئے تلنگانہ پرمننٹ ریزیڈنٹ سرٹیفکیٹ (ٹی پی آرسی) یا پرماننٹ نیٹیویٹی سرٹیفکیٹ، جسے عام طورپرملکی سرٹیفکیٹ” کہا جاتا ہے، جاری کرنے کی سفارش کی جائے۔ وفدکے مطابق روزانہ اجرت پرکام کرنے والے مزدور، غریب خاندان، خواتین، بزرگ شہری، معذورافراد، غیرتعلیم یافتہ طبقے، کرایہ دار، دو ردراز علاقوں کے مکین اور روزگارکی غرض سے تلنگانہ میں مقیم ہزاروں افراد انتخابی نظرثانی کےعمل میں شدید دشواریوں کاسامنا کر رہے ہیں۔ ان میں سے بیشترکے پاس صرف آدھار کارڈ موجود ہے جبکہ دیگر مطلوبہ سرکاری دستاویزات دستیاب نہیں ہیں، جس کے باعث وہ بے یقینی اوراضطراب کا شکارہیں۔ تنظیموں نے خدشہ ظاہرکیاکہ اگربروقت اورمناسب اقدامات نہ کیے گئے توبڑی تعداد میں حقیقی اوراہل ووٹرس کے نام انتخابی فہرست سے حذف ہونے کا امکان ہے، جس سے ان کے جمہوری اورآئینی حقِ رائے دہی کونقصان پہنچ سکتا ہے۔ایسوسی ایشن فارپروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر)، تلنگانہ چیپٹر نے اپنی یادداشت میں ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ الیکشن کمیشن آف انڈیا سے ایس آئی آر کی مدت میں توسیع کے لیے نمائندگی کرے تاکہ عوام کو مطلوبہ دستاویزات جمع کرانے کے لیے مناسب وقت فراہم کیا جا سکے۔ تمام تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت ایسا مؤثر نظام وضع کیا جائے جس سے کسی بھی حقیقی اور اہل ووٹر کا نام انتخابی فہرست سے خارج نہ ہو اور جمہوری عمل مزید مضبوط اور شفاف بنایا جا سکے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande