عیسائی تنظیم کے فیس بک پیج پر ہندو دیوتاؤں کی تصویر سے برہمی
رائے پور، 27 جون (ہ س): صارفین نے ایک عیسائی تنظیم کے فیس بک پیج پر ہندو دیوتاؤں کو نمایاں کرنے والے اے آئی سے تیار کردہ اشتعال انگیز ویڈیوز اپ لوڈ کی ہیں۔ ان ویڈیوز میں یسوع مسیح کو ہندو دیوتاؤں سے افضل مرتبہ پر فائز کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی
عیسائی تنظیم کے فیس بک پیج پر ہندو دیوتاؤں کی تصویر سے برہمی


رائے پور، 27 جون (ہ س): صارفین نے ایک عیسائی تنظیم کے فیس بک پیج پر ہندو دیوتاؤں کو نمایاں کرنے والے اے آئی سے تیار کردہ اشتعال انگیز ویڈیوز اپ لوڈ کی ہیں۔ ان ویڈیوز میں یسوع مسیح کو ہندو دیوتاؤں سے افضل مرتبہ پر فائز کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

مختلف ہندو تنظیموں نے اس دعوے کو ہندو عقیدے کی توہین قرار دیتے ہوئے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ بجرنگ دل کے صدر روی وادھوانی نے کہا کہ سوشل میڈیا پر اس طرح کا مواد شیئر کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔ ہندو تنظیمیں آج اس معاملے کو لے کر پولیس میں باضابطہ تحریری شکایت درج کرانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا سے اس مواد کو فوری طور پر ہٹانے اور مسیحی تنظیم کے پیج ایڈمنسٹریٹر اور مواد بنانے اور شیئر کرنے کے ذمہ دار صارفین کے خلاف مذہبی ہم آہنگی کو بگاڑنے سے متعلق دفعات کے تحت سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ان کا اصرار ہے کہ فیس بک پیج کے پیچھے موجود افراد اور ویڈیوز اپ لوڈ کرنے والوں کی نشاندہی کی جائے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ کوئی مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کی ہمت نہ کرے۔

جس فیس بک پیج پر یہ وائرل اے آئی سے تیار کردہ ویڈیوز اور تصاویر گردش کر رہی ہیں اسے فرام ہیون تو ارتھ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ درجنوں ویڈیوز کی شکل میں ہے جو ہندو دیوتاؤں کو کمتردکھاتی ہیں۔ یہ ویڈیوز مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے بنائی گئی ہیں۔

اس حساس معاملے کے حوالے سے پولیس ابتدائی تحقیقات کر رہی ہے اور اپنی تکنیکی ٹیم اور سائبر سیل کی مدد سے صفحہ کے اصل ماخذ کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ان کا سائبر سیل مذہبی ہم آہنگی میں خلل ڈالنے یا کسی بھی مذہب کے عقیدے کو ٹھیس پہنچانے والے مواد کے لیے سوشل میڈیا پر مسلسل نظر رکھتا ہے۔ حکام کے مطابق، فیس بک پیج 'فرام ہیوین ٹو ارتھ' کی تکنیکی تحقیقات جاری ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے ک متنازعہ ویڈیوز اصل میں کس نے بنائی اور وہ کس آئی پی ایڈریس سے اپ لوڈ کی گئیں۔

پولیس حکام نے کہا کہ تحریری شکایت اور ویڈیو شواہد کی جانچ کی بنیاد پر امن و امان کی بحالی اور مذہبی جذبات کو مجروح کرنے سے متعلق مناسب قانونی دفعات کے تحت مزید کارروائی کی جائے گی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande