
ادھر شیر کی زندگی گزارتے تھے، اب وہاں گدھے کی زندگی گزارو، ادھو ٹھاکرے کا سنجے دیشمکھ پر حملہایوت محل، 27 جون (ہ س)۔ شیو سینا سربراہ ادھو ٹھاکرے نے پارٹی چھوڑنے والے رکن پارلیمنٹ سنجے دیشمکھ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ادھر شیر کی زندگی گزارتے تھے، اب وہاں گدھے کی زندگی گزارو۔ وہ ایوت محل میں منعقدہ عوامی جلسے سے خطاب کر رہے تھے، جہاں انہوں نے باغی ارکان پارلیمنٹ کو نشانہ بنایا۔ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ دو ہفتے قبل انہوں نے ارکان پارلیمنٹ کی ایک میٹنگ بلائی تھی۔ اس وقت سنجے دیشمکھ نے کہا تھا کہ انہیں اپنی بیٹی کی منگنی کے سلسلے میں جانا ہے اور وہ ویڈیو کال کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوں گے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ انہیں کیا معلوم تھا کہ وہ بیٹی کی نہیں بلکہ اپنی ہی سویرک طے کر رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ رات کو انہوں نے سنجے دیشمکھ کو فون کر کے پوچھا کہ رشتہ طے ہو گیا کیا؟ جواب ملا کہ ہو گیا، لیکن دو دن بعد معلوم ہوا کہ وہ دوسری جماعت میں چلے گئے۔ ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ اب وہ غداروں کے جھنڈ میں رہیں اور وہیں اپنی زندگی گزاریں۔انہوں نے کہا کہ عوام نے ان کے ایک لفظ پر اعتماد کرتے ہوئے ان ارکان پارلیمنٹ کو منتخب کیا تھا، مگر انہوں نے عوام کے اعتماد سے غداری کی، جس پر وہ عوام سے معافی مانگیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ پارٹی چھوڑ کر گئے وہ غدار ثابت ہوئے جبکہ جو وفادار رہے وہی ان کے اصل کارکن ہیں۔ انہوں نے شیو سینکوں سے اپیل کی کہ جہاں بھی یہ غدار نظر آئیں، ان سے پوچھیں کہ انہوں نے غداری کیوں کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں بھی پیسہ چاہیے ہوتا تو وہ بھی دوسروں کو گرا سکتے تھے، مگر انہوں نے بھگوا اور وفاداری کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ انہوں نے کارکنوں سے کہا کہ آئندہ تین برس تک یہی مہم جاری رکھیں۔ٹھاکرے نے الزام لگایا کہ انتخابات نہ ہونے کے باوجود سیاسی جماعتوں میں توڑ پھوڑ کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات کے وقت حکمراں جماعت کا نعرہ اب کی بار چار سو پار تھا، جبکہ انہوں نے اب کی بار تڑی پار کہا تھا۔ ان کا الزام تھا کہ اقتدار میں بیٹھے لوگ آئین میں تبدیلی اور آمریت قائم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غلامی اور آمریت کو روکنے کے لیے وہ میدان میں ہیں اور مہاراشٹر کو بیدار رہنا ہوگا۔ انہوں نے کارکنوں سے اپیل کی کہ آئندہ انتخابات کی تیاری ابھی سے شروع کریں اور ایسا رکن پارلیمنٹ منتخب کریں جو بھگوا نظریے کا مضبوط حامی ہو۔ انہوں نے کہا کہ شیو سینا ایک ہے اور بھگوا بھی ایک ہی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ پہلے چالیس ارکان اسمبلی توڑے گئے، اب ارکان پارلیمنٹ کی قیمت کیا ہوگی، یہ بھی عوام دیکھ رہے ہیں۔ادھو ٹھاکرے نے ایودھیا میں شری رام مندر کے چندہ میں مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ہندوتوا انسانیت کی حفاظت کرنے والا ہے، مندر لوٹنے والا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوؤں میں بیداری آنی چاہیے، رام مندر سے متعلق آج کے سامنا کے اداریے کو پڑھا جائے اور سوال اٹھایا کہ مختلف معاملات پر مورچے نکالنے والے اب خاموش کیوں ہیں اور سکل ہندو سماج کہاں ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ بی جے پی سے آزاد رام کے مطالبے کے لیے تحریک چلائیں گے۔ہندوستھان سماچار--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے