
ممبئی، 27 جون (ہ س)۔ شیو سینا (ٹھاکرے گروپ) کے رکن اسمبلی آدتیہ ٹھاکرے نے مہاراشٹر ٹیچر اہلیت امتحان (ٹی ای ٹی) کے پرچہ لیک ہونے کے شبہے پر ریاستی حکومت اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ بار بار ہونے والے پرچہ لیک کے واقعات نے ریاست کے نوجوانوں کا مستقبل خطرے میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ نیٹ، ایم پی ایس سی اور اب ٹی ای ٹی جیسے اہم امتحانات کے پرچے مسلسل لیک ہو رہے ہیں اور حکومت طلبہ کے مستقبل سے کھلواڑ کر رہی ہے۔آدتیہ ٹھاکرے نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو آئین بدلنے کے لیے سیاسی جماعتیں توڑنے کے بجائے بار بار ہونے والی پرچہ لیک کی وارداتیں روکنے پر توجہ دینی چاہیے تھی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی سے مہاراشٹر میں اس طرح کے واقعات مسلسل پیش آ رہے ہیں، جس سے ریاست کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔ ہر سال نوجوانوں کو احتجاج پر مجبور ہونا پڑتا ہے، ایسے میں آخر ملک کے نوجوان اپنے مستقبل کے خواب کب دیکھیں گے، انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا۔دریں اثنا اتوار کو ہونے والا ٹیچر اہلیت امتحان پرچہ لیک ہونے کے شبہے کے باعث ملتوی کر دیا گیا ہے۔ مہاراشٹر ریاستی امتحانی کونسل نے باضابطہ طور پر امتحان ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بھونڈی میں خفیہ اطلاع کی بنیاد پر پولیس کی کارروائی کے دوران بعض مشتبہ افراد کے پاس ٹی ای ٹی کے سوالنامے سے ملتے جلتے چند سوالات ملے تھے۔ بعد ازاں امتحانی کونسل کے حکام نے جانچ کی تو معلوم ہوا کہ یہ سوالات اصل پرچہ سے مطابقت رکھتے ہیں۔ اس معاملے میں بھونڈی پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔مہاراشٹر ریاستی امتحانی کونسل نے کہا ہے کہ امتحان ہر صورت مکمل شفاف ماحول میں منعقد ہونا ضروری ہے۔ کونسل کے مطابق معاملے کی مکمل تحقیقات کے لیے امتحان ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ امتحان کی نئی تاریخ اور دیگر ہدایات جلد ہی کونسل کی سرکاری ویب سائٹ پر جاری کی جائیں گی۔ تاہم امتحان سے صرف ایک دن قبل اس کے ملتوی ہونے سے ریاست بھر کے لاکھوں امیدواروں میں شدید ناراضی اور غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ اس واقعے کے بعد اپوزیشن نے ریاستی حکومت پر لاپروائی کا الزام عائد کرتے ہوئے امتحانی نظام کی خامیوں پر سوالات اٹھائے ہیں۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / جاوید این اے