
تعلیمی نظام میں اصلاحات اور بھرتی کے عمل میں شفافیت کا مطالبہ، 14 جولائی سے نکلے گی ’یووا سوابھیمان جین-زی سائیکلوتھون‘
بھوپال، 27 جون (ہ س)۔
مدھیہ پردیش کانگریس کمیٹی نے ریاست میں نوجوانوں سے متعلق مسائل کو لے کر حکومت پر نشانہ سادھتے ہوئے تعلیمی نظام میں اصلاحات، بھرتی امتحانات میں شفافیت اور روزگار کے مواقع بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ہفتہ کو دارالحکومت بھوپال واقع ریاستی کانگریس دفتر میں منعقدہ مشترکہ پریس کانفرنس میں ریاستی کانگریس صدر جیتو پٹواری، سابق وزیر جے وردھن سنگھ اور پریا ورت سنگھ نے کہا کہ نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق مسائل پر کانگریس ریاستی سطح پر مہم چلائے گی۔ پریس کانفرنس میں میڈیا محکمہ کے صدر مکیش نایک، تنظیم کے نائب صدر سکھدیو پانسے، ضلع کانگریس صدر پروین سکسینہ سمیت نوجوان امور کی کمیٹی کے ارکان موجود تھے۔
ریاستی کانگریس صدر جیتو پٹواری نے الزام لگایا کہ بھرتی امتحانات میں بے ضابطگیوں، پیپر لیک اور بے روزگاری نے ریاست کے لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ برسوں میں کئی بھرتی امتحانات میں گڑبڑیاں سامنے آئیں اور حکومت نوجوانوں کے مفادات کے تحفظ میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں بڑی تعداد میں سرکاری اسامیاں خالی ہیں، لیکن باقاعدہ اور وقت پر بھرتی نہیں ہو رہی ہے۔
پٹواری نے کہا کہ کانگریس حکومت سے سالانہ بھرتی کیلنڈر نافذ کرنے، بھرتی کے عمل میں مکمل شفافیت لانے، امتحان منسوخ ہونے پرامیدواروں کی فیس واپس کرنے، پیپر لیک معاملوں کی فوری جانچ نیز آزاد بھرتی کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ کرتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کانگریس ’’یونیفارم ایجوکیشن کوڈ‘‘ نافذ کر کے تمام طلبہ کو مساوی اور معیاری تعلیم فراہم کرنے کی حامی ہے۔ سابق وزیر جے وردھن سنگھ نے کہا کہ ملک کے امتحان نظام کی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات ضروری ہیں۔ انہوں نے قومی سطح پر منعقدہ امتحانات میں ہوئی مبینہ بے ضابطگیوں کا ذکر کرتے ہوئے امتحان کے عمل میں جوابدہی اور شفافیت بڑھانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی نظام کو سیاسی مداخلت سے آزاد کر کے منصفانہ اور قابلِ اعتماد بنایا جانا چاہیے۔
سابق وزیر پریا ورت سنگھ نے کہا کہ ریاست کا نوجوان روزگار، تعلیم اور مسابقتی امتحانات کو لے کر تذبذب کی کیفیت میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نوجوانوں کے مسائل اور حقوق کو لے کر کانگریس 14 جولائی سے ’یووا سوابھیمان جین-زی سائیکلوتھون‘ کا آغاز کرے گی۔ یہ یاترا اندور سے شروع ہو کر دیواس اور سیہور ہوتی ہوئی 15 جولائی کو بھوپال پہنچے گی۔ انہوں نے کہا کہ مہم کا مقصد نوجوانوں کے مسائل کو عوام تک پہنچانا اور حکومت کی توجہ ان کی پریشانیوں کی جانب مبذول کرانا ہے۔ کانگریس لیڈروں نے کہا کہ پارٹی نوجوانوں کے حقوق، روزگار، معیاری تعلیم اور شفاف بھرتی نظام کے مسئلے پر لگاتار آواز اٹھاتی رہے گی اور ضروری اصلاحات کے مطالبے کو لے کر عوامی تحریک چلائے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / انظر حسن