
کانگریس رہنما محمد عمر قاسمی نے کلکٹر اور ایس پی کو میمورنڈم پیش کیابھوپال، 26 جون(ہ س)۔
مدھیہ پردیش کانگریس کمیٹی کے ریاستی سکریٹری محمد عمر قاسمی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں نازیہ الٰہی کی جانب سے اسلام کے پیغمبر حضرت محمد مصطفی اور امّ المو¿منین حضرت عائشہ صدیقہ کے بارے میں مبینہ طور پر کیے گئے توہین آمیز بیانات کے خلاف ضلع کلکٹر اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، کھرگون کو ایک میمورنڈم پیش کرتے ہوئے سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ نازیہ الٰہی کے مبینہ بیانات سے ملک بھر کے مسلمانوں کے مذہبی جذبات شدید مجروح ہوئے ہیں، جس کے باعث غم و غصہ اور بے چینی کی فضا پیدا ہوئی ہے۔ اس میں یہ بھی کہا گیا کہ اس قسم کے بیانات سماجی ہم آہنگی، باہمی بھائی چارے اور امن و امان کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
محمد عمر قاسمی نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) اور دیگر متعلقہ قانونی دفعات کے تحت نازیہ الٰہی کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔ مزید یہ کہ اگر تحقیقات میں ضروری قانونی بنیادیں سامنے آئیں تو قومی سلامتی قانون (NSA) کے تحت بھی کارروائی کی جائے۔
میمورنڈم میں چار اہم مطالبات پیش کیے گئے ہیں:1. مبینہ توہین آمیز ویڈیو اور بیانات کی فوری اور غیر جانبدارانہ جانچ کی جائے۔2. متعلقہ شخص کے خلاف مناسب قانونی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی جائے۔3. سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے مبینہ قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔4. اگر تحقیقات میں الزام ثابت ہو جائے تو قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔اس موقع پر محمد عمر قاسمی نے کہا کہ ہندوستان مختلف مذاہب اور ثقافتوں کا ملک ہے، جہاں تمام مذاہب اور ان کی مقدس شخصیات کا احترام کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی مذہب یا اس کی مقدس شخصیات کے بارے میں توہین آمیز بیانات سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتے ہیں، اس لیے انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ قانون کے مطابق فوری، غیر جانبدارانہ اور مو¿ثر کارروائی کرے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais