
بھوپال، 24 جون (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کانگریس کے ’دھرم ایوم مندر پجاری پرکوشٹھ‘ (مذہب اور مندر پجاری سیل) نے بدھ کے روز ریاستی کانگریس ہیڈکوارٹر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں ایودھیا میں واقع شری رام جنم بھومی مندر سے جڑے مبینہ چڑھاوے کی چوری اور مالیاتی بے ضابطگیوں کے معاملات کی غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ کیا۔ سیل نے ان معاملات کی سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) سے جانچ کرانے اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے وارننگ دی دی کہ مقررہ وقت میں کارروائی نہیں ہونے پر بڑے پیمانے پر عوامی تحریک شروع کی جائے گی۔
پریس کانفرنس میں سابق وزیر سجن سنگھ ورما، کانگریس میڈیا ڈپارٹمنٹ کے صدر مکیش نایک، مذہب اور مندر پجاری سیل کی ریاستی صدر سادھوی رچا گوسوامی، ریاستی کنوینر شیو نارائن شرما، شریک کنوینر اونکار داس ویشنو اور کارگزار صدر سدھیر بھارتی سمیت پجاری سنگھ کے کئی عہدیداران موجود تھے۔
مکیش نایک نے کہا کہ رام مندر کے احاطے میں سیکورٹی کے انتظامات، سی سی ٹی وی کیمروں کے آپریشن اور چڑھاوے کے بندوبست کو لے کر وقت وقت پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ انہوں نے مندر کی تعمیر کے دوران عقیدت مندوں کی طرف سے عطیہ کی گئی سونے اور چاندی کی ’رام شیلاوں‘ کا مسئلہ بھی اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے استعمال اور تحفظ کے سلسلے میں زیادہ شفافیت لازمی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے کروڑوں عقیدت مندوں کو یہ جاننے کا حق ہے کہ مذہبی اداروں کو حاصل ہونے والے عطیات اور وسائل کا استعمال کس طرح کیا گیا۔
سابق وزیر سجن سنگھ ورما نے کہا کہ مختلف مندر ٹرسٹ اور مذہبی اداروں سے جڑے مالیاتی معاملات میں اٹھ رہے سوالات کی غیر جانبدارانہ اور آزادانہ جانچ ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عقیدت سے جڑے اداروں میں شفافیت اور جواب دہی کو یقینی بنانا ضروری ہے، تاکہ عقیدت مندوں کا بھروسا برقرار رہے۔
سادھوی رچا گوسوامی نے کہا کہ رام مندر میں چڑھاوے کی مبینہ چوری اور مالیاتی بے ضابطگیوں سے جڑے الزامات کروڑوں عقیدت مندوں کے جذبات سے وابستہ موضوع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مندر میں وسیع سیکورٹی انتظامات ہونے کے باوجود اس طرح کے الزامات سامنے آنا تشویش کا باعث ہے اور ان کی غیر جانبدارانہ جانچ کرائی جانی چاہیے۔ انہوں نے ٹرسٹ کے طریقۂ کار میں زیادہ شفافیت اور سنت سماج کی وسیع شرکت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مذہبی اداروں کے آپریشن میں جواب دہی اور کھلا پن ہونا چاہیے۔
کانگریس سیل نے سوال کیا کہ چڑھاوے کی چوری کے الزامات میں گھرے ملازمین اور متعلقہ افراد پر اب تک کیا کارروائی کی گئی ہے؟ ٹرسٹ کو موصول ہونے والی شکایتوں پر وقت کے اندر کارروائی کیوں نہیں ہوئی؟ ممتاز سنتوں اور اکھاڑوں کو ٹرسٹ میں مناسب نمائندگی کیوں نہیں دی گئی؟ مندر کی تعمیر اور انتظامات سے جڑے مالیاتی لین دین کی تفصیلی تفصیلات عام کیوں نہیں کی گئیں؟ زمین کی خریداری اور دیگر مالیاتی معاملات میں اٹھے تنازعات کی آزادانہ جانچ کیوں نہیں کرائی گئی؟ پرساد کی تقسیم اور دیگر انتظامات میں بے ضابطگیوں کے الزامات کی صورت حال کیا ہے؟ رام مندر تحریک سے جڑے کارسیوکوں کے احترام اور بحالی کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں؟ ایودھیا کوریڈور پروجیکٹ سے متاثرہ لوگوں کی بحالی اور معاوضے کی صورت حال کیا ہے؟ درشن کے نظام سے جڑی فیس اور خصوصی دفعات کا جائزہ کیوں نہیں لیا جا رہا ہے؟
کانگریس نے مطالبہ کیا کہ شری رام جنم بھومی تیرتھ کھیتر ٹرسٹ کے کاموں کی آزادانہ جانچ کرائی جائے۔ مندر کی آمدنی، چڑھاوے اور اخراجات کا باقاعدہ اور عوامی آڈٹ کرایا جائے۔ ٹرسٹ کے طریقۂ کار میں سنت سماج، اکھاڑوں اور دھرماچاریوں کی شراکت بڑھائی جائے۔ عقیدت مندوں کے لیے درشن کے نظام کو زیادہ آسان اور یکساں بنایا جائے۔ مندر کے انتظام میں شفافیت اور جواب دہی یقینی کی جائے۔ مندر کی جائیدادوں اور چڑھاوے کے استعمال کے سلسلے میں واضح پالیسی بنائی جائے۔
سیل کے کارگزای صدر سدھیر بھارتی نے کہا کہ اگر سات دنوں کے اندر معاملے میں ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی اور مطالبات پر مثبت پہل نہ ہوئی، تو دھرماچاریوں، سنت سماج اور عقیدت مندوں کے تعاون سے بڑے پیمانے پر عوامی تحریک شروع کی جائے گی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن