
علی گڑھ, 24 جون (ہ س) لکھنؤ کے علی گنج علاقے میں واقع کوچنگ سینٹر میں پیش آئے المناک آتشزدگی کے واقعے کے بعد علی گڑھ ضلع انتظامیہ، محکمہ تعلیم اور محکمہ فائر بریگیڈ پوری طرح متحرک ہو گئے ہیں۔ طلبہ کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے شہر میں غیر قانونی اور حفاظتی معیارات کے بغیر چلنے والے کوچنگ سینٹروں اور لائبریریوں کے خلاف خصوصی مہم چلائی جا رہی ہے۔
ضلع ودیالیہ انسپکٹر (ڈی آئی او ایس) ڈاکٹر پورن سنگھ نے بتایا کہ لکھنؤ حادثے کے بعد محکمہ تعلیم اور فائر بریگیڈ کی مشترکہ ٹیم مسلسل کوچنگ اداروں کا معائنہ کر رہی ہے۔ اب تک شہر کے 20 کوچنگ سینٹر اور لائبریریوں کی جانچ کی جا چکی ہے، جن میں سے 9 اداروں کو سیل کر دیا گیا ہے، جبکہ متعدد مراکز کارروائی کے خوف سے بند پائے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ پہلے دن 10 اداروں کی جانچ کی گئی تھی، جن میں 6 کوچنگ سینٹر سیل کیے گئے جبکہ 4 بند ملے۔ دوسرے دن مزید 10 اداروں کا معائنہ کیا گیا، جن میں 3 کوچنگ سینٹر سیل کیے گئے اور 7 بند پائے گئے۔ اس طرح مجموعی طور پر اب تک 9 اداروں کے خلاف سیلنگ کی کارروائی کی جا چکی ہے۔
ڈاکٹر پورن سنگھ کے مطابق جن اداروں کو سیل کیا گیا، ان کے پاس نہ تو کوئی رجسٹریشن تھا، نہ ہی متعلقہ محکموں کی منظوری یا ضروری دستاویزات موجود تھیں۔ بعض مقامات پر کوچنگ سینٹروں کے ساتھ غیر مجاز لائبریریاں بھی چلائی جا رہی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ شہر میں ایسے تقریباً 41 کوچنگ سینٹر اور لائبریریاں نشاندہی کی گئی ہیں، جن میں سے 20 کی جانچ مکمل ہو چکی ہے، جبکہ باقی اداروں کا معائنہ بھی جلد کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ مہم اس وقت تک جاری رہے گی جب تک تمام غیر قانونی اداروں کے خلاف کارروائی مکمل نہیں ہو جاتی۔
شہریوں اور طلبہ کے والدین نے انتظامیہ کی اس کارروائی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں میں حفاظتی انتظامات اور قانونی ضابطوں پر سختی سے عمل درآمد طلبہ کی جان و مال کے تحفظ کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ