
حیدرآباد ، 24 جون (ہ س)۔ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا(ایس ڈی پی آئی)تلنگانہ نے جامعہ نظامیہ کی ،معین آباد کی تقریباً 237 ایکڑوقف اراضی پرمبینہ قبضوں،غیرقانونی رجسٹریشن اورغیرمجازمنتقلی سے متعلق اطلاعات پرشدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومتِ تلنگانہ، وقف بورڈ اورمتعلقہ حکام سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ ایس ڈی پی آئی تلنگانہ کے ریاستی صدرسید منصورشاہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وقف املاک مذہبی، تعلیمی اورفلاحی مقاصد کے لیے وقف کیے گئے قیمتی اثاثے ہیں،جن کاتحفظ ریاستی اداروں کی قانونی اور آئینی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ نظامیہ کی قیمتی اراضی کی مبینہ غیرقانونی منتقلی اوررجسٹریشن سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات نہایت سنگین نوعیت کی ہیں اوران کی مکمل، شفاف اورغیرجانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئے۔ پارٹی نے اس معاملے میں عدالتی مداخلت کا خیرمقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیاکہ عدالت کی جانب سے جاری کردہ احکامات پر بلا تاخیرعمل درآمد کیاجائےاوراس بات کویقینی بنایاجائے کہ تمام وقف املاک کاجامع سروے،تحفظ اورقانونی نگرانی کی جائے۔ بیان میں کہاگیا کہ ملک بھرمیں وقف اراضی طویل عرصے سے قبضوں اورانتظامی غفلت کاشکاررہی ہے،جس کے باعث متعدد تعلیمی،مذہبی اورسماجی فلاحی اداروں کوشدید نقصان اٹھاناپڑا۔ ایس ڈی پی آئی کے مطابق وقف جائیدادوں کا تحفظ صرف ایک قانونی تقاضاہی نہیں بلکہ سماجی ذمہ داری بھی ہے تاکہ ان سے حاصل ہونے والے وسائل عوامی فلاح و بہبود کےلیے استعمال ہوتے رہیں ۔ایس ڈی پی آئی تلنگانہ نے مطالبہ کیاکہ متنازعہ وقف اراضی سے متعلق عدالتی احکامات پر فوری عمل درآمد کیاجائے،ریاست بھرکی تمام وقف املاک کاجامع سروے اورڈیجیٹائزیشن کی جائے،غیرقانونی قبضوں یارجسٹریشن میں ملوث افراداورسرکاری اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اوروقف اثاثوں کی نگرانی و تحفظ کے لیے خصوصی نظام قائم کیا جائے۔ پارٹی نے مزید زوردیاکہ وقف انتظامیہ میں مکمل شفافیت لائی جائے اوروقف املاک سے متعلق ریکارڈ کوباقاعدگی کے ساتھ عوامی سطح پرپیش کیاجائے تاکہ کسی بھی قسم کی بے ضابطگی یا بدعنوانی کاسدباب کیاجاسکے۔ ایس ڈی پی آئی نے اس عزم کا اظہارکیاکہ وہ وقف املاک کے تحفظ، برادری کے اثاثوں کی بحالی اورانصاف کی فراہمی کے لیے کی جانے والی تمام قانونی اورجمہوری کوششوں کی حمایت جاری رکھے گی۔
۔ ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق