پاکستان کی دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ مبینہ طور پر تعلق کے شبہ میں کرناٹک میں ایک نوجوان گرفتار
بنگلورو، 24 جون (ہ س)۔ کرناٹک کے داونگیرے ضلع کے ہری ہر تعلقہ کے بنکوڈو گاوں سے ایک نوجوان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتار ملزم کی شناخت سہیل (20) کے طور پر کی گئی ہے جو اتر پردیش کا رہنے والا ہے۔ اس پر پاکستان میں مقیم دہشت گرد تنظیموں سے روابط کا شب
پاکستان کی دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ مبینہ طور پر تعلق کے شبہ میں کرناٹک میں ایک نوجوان گرفتار


بنگلورو، 24 جون (ہ س)۔ کرناٹک کے داونگیرے ضلع کے ہری ہر تعلقہ کے بنکوڈو گاوں سے ایک نوجوان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتار ملزم کی شناخت سہیل (20) کے طور پر کی گئی ہے جو اتر پردیش کا رہنے والا ہے۔ اس پر پاکستان میں مقیم دہشت گرد تنظیموں سے روابط کا شبہ ہے۔ پولیس اور سینٹرل انٹیلی جنس ڈپارٹمنٹ نے مشترکہ کارروائی میں نوجوان کو گرفتار کیا۔ اس کے خلاف ہری ہر دیہی پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق گرفتار نوجوان ملک میں بڑے پیمانے پر تخریبی اور سماج دشمن سرگرمیوں کو انجام دینے کی سازش کا حصہ ہو سکتا ہے۔ پوچھ گچھ کے دوران، اس نے مبینہ طور پر ایودھیا میں شری رام مندر کو بم دھماکے سے نشانہ بنانے کی بات کی۔ تاہم تفتیشی ایجنسیاں ابھی تک اس معلومات کی صداقت اور اس کے حقیقی ارادوں کی چھان بین کر رہی ہیں۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے کرناٹک کے وزیر داخلہ پریانک کھڑگے نے کہا کہ ابتدائی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ اتر پردیش سے ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔ وہ کام کی تلاش میں داونگیرے آیا تھا۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ وہ چیٹ کے ذریعے پاکستان میں دہشت گرد تنظیموں سے رابطے میں تھا۔ اس کے موبائل فون سے بھی اشتعال انگیز مواد برآمد ہوا ہے۔ ملزم اس وقت پولیس کی حراست میں ہے اور اس سے تفتیش جاری ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے پر مزید تفصیلات سامنے آئیں گی۔

پولیس ذرائع کے مطابق، سہیل، جو اصل میں اتر پردیش کا رہنے والا ہے، تقریباً 15 دن پہلے ہری ہر آیا تھا۔ شک سے بچنے کے لیے، وہ ایک مقامی فیکٹری میں پینٹر کے طور پر کام کر رہا تھا اور بنکوڈو گاو¿ں میں رہ رہا تھا۔ ملزم کے موبائل فون کی جانچ پڑتال سے پاکستان سے جڑے کئی مشکوک لنک کا انکشاف ہوا ہے۔ تفتیشی افسران کے مطابق وہ سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان میں قائم دہشت گرد نیٹ ورک سے رابطے میں تھا۔ پاکستانی کنٹری کوڈ (+92) کے ساتھ ایک نمبر ان کے موبائل فون پر’رانا بھائی‘ کے نام سے محفوظ پایا گیا۔ وہ مبینہ طور پر’میمن اینڈ جٹّو-333‘ اور’رانا بھائی-333‘ نامی گروپوں کا بھی سرگرم رکن تھا۔ تفتیش کے دوران اس کے موبائل فون سے ہتھیاروں اور دیگر مجرمانہ ڈیجیٹل مواد کے ساتھ اس کی کئی تصاویر برآمد کی گئیں۔اس کی گرفتاری کے بعد ملزم کو سخت پوچھ گچھ کے لیے تماکورو پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ بعد میں اسے دستاویزات اور مزید تفتیش کے لیے ہری ہر دیہی پولیس اسٹیشن واپس کردیا گیا، جہاں سینئر افسران کی نگرانی میں تحقیقات جاری ہے۔ سیکورٹی ایجنسیاں ملزم کے نیٹ ورک، اس کے ممکنہ ساتھیوں اور مبینہ دہشت گردی کی سازش کے وسیع پہلوو¿ں کی مکمل چھان بین کر رہی ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande