مہاراشٹر حکومت کا 44 مقدمات واپس لینے کا فیصلہ، سیاسی، سماجی اور مذہبی تحریکوں کے کارکنان کو راحت
ممبئی، 17 جون (ہ س)۔ مہاراشٹر حکومت نے ریاست میں مختلف مذہبی، سیاسی اور سماجی تحریکوں کے دوران درج کیے گئے 44 مقدمات واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس بات کی اطلاع ریاست کے وزیر برائے ثقافتی امور آشیش شیلار نے دی۔ ریاست میں تحریکوں اور احتجاجی سرگرمی
مہاراشٹر حکومت کا 44 مقدمات واپس لینے کا فیصلہ، سیاسی، سماجی اور مذہبی تحریکوں کے کارکنان کو راحت


ممبئی، 17 جون (ہ س)۔

مہاراشٹر حکومت نے ریاست میں مختلف مذہبی، سیاسی اور سماجی تحریکوں کے دوران درج کیے گئے 44 مقدمات واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس بات کی اطلاع ریاست کے وزیر برائے ثقافتی امور آشیش شیلار نے دی۔ ریاست میں تحریکوں اور احتجاجی سرگرمیوں کے دوران درج مقدمات کا جائزہ لینے کے لیے وزیر آشیش شیلار کی صدارت میں کابینہ کی ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ سہیادری مہمان خانہ میں منعقدہ کمیٹی کے اجلاس میں پولیس کے پاس موصول ہونے والی 133 درخواستوں پر غور کیا گیا، جن میں سے 44 درخواست گزاروں کے خلاف درج مقدمات واپس لینے کی منظوری دی گئی۔آشیش شیلار نے بتایا کہ اس سے قبل منعقدہ اجلاس میں بھی 77 مقدمات واپس لینے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے۔ ان کے مطابق گنیش اتسو، نوراتری، دہی ہانڈی، مختلف سماجی پروگراموں، گوونش تحفظ تحریکوں اور مزدور تحریکوں کے دوران کارکنان کے خلاف غیر ضروری طور پر مقدمات درج کیے گئے تھے۔ اب جن 44 مقدمات کو واپس لینے کی منظوری دی گئی ہے، ان میں اسی نوعیت کے معاملات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے سماجی اور سیاسی نظریات سے وابستہ متعدد کارکنان کو عدالتی کارروائیوں اور بار بار عدالتوں کے چکر لگانے سے نجات ملے گی۔وزیر شیلار کے مطابق حکومتی پالیسی کے تحت خواتین کے خلاف جرائم، سنگین نوعیت کے مقدمات، ذاتی دشمنی سے متعلق معاملات اور دیوانی تنازعات کو معاف نہیں کیا جا سکتا۔ اسی وجہ سے کمیٹی نے ایسے حساس اور سنگین مقدمات واپس لینے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اراکینِ اسمبلی اور اراکینِ پارلیمنٹ سے متعلق مقدمات کے سلسلے میں سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق بمبئی ہائی کورٹ ہی حتمی فیصلہ کرے گی۔ موصولہ درخواستوں میں سے 14 معاملات ایسے ہیں جن پر دوبارہ غور کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ ان مقدمات کو متعلقہ علاقائی کمیٹیوں کے سامنے پیش کیا جائے گا، جن کی صدارت ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) کرتے ہیں۔اس کے علاوہ 35 درخواستوں میں شامل بعض مقدمات پہلے ہی نمٹائے جا چکے تھے، جبکہ 32 معاملات کمیٹی کے دائرۂ اختیار میں نہیں آتے تھے۔ اس عمل کے بعد اب صرف آٹھ مقدمات زیر التوا رہ گئے ہیں، جن کے بارے میں بھی کمیٹی نے حکومت کو مناسب سفارشات پیش کی ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ سماجی اور سیاسی کارکنان کو غیر ضروری قانونی پیچیدگیوں سے راحت فراہم کرنا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے، اور اسی مقصد کے تحت ان مقدمات کے جائزے اور واپسی کا عمل جاری رکھا گیا ہے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande