دہرادون میں نوجوان کے قتل کے بعد علاقے میں کشیدگی ،وزیراعلیٰ کا سخت سزا دینے کا انتباہ
دہرادون، 14 جون (ہ س)۔ اتراکھنڈ کی راجدھانی دہرادون کے وکاس نگر علاقے کے سہس پور تھانہ علاقے میں واقع بیراگی والا گاؤں میں ایک نوجوان کے قتل کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی ہے۔ انتظامیہ نے امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے پی اے سی کے ساتھ ساتھ ک
دہرادون میں نوجوان کے قتل کے بعد علاقے میں کشیدگی ،وزیراعلیٰ کا سخت سزا دینے کا انتباہ


دہرادون، 14 جون (ہ س)۔ اتراکھنڈ کی راجدھانی دہرادون کے وکاس نگر علاقے کے سہس پور تھانہ علاقے میں واقع بیراگی والا گاؤں میں ایک نوجوان کے قتل کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی ہے۔ انتظامیہ نے امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے پی اے سی کے ساتھ ساتھ کئی تھانوں سے پولیس کو تعینات کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے امن و ہم آہنگی میں خلل ڈالنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی ہے۔

دراصل بھاگوت کے بیٹے اشوک، راجیش اور ونود پر ایک مخصوص فرقہ کے لوگوں نے حملہ کیا جب وہ ہفتے کی شام دیر گئے اپنے کھیتوں کو سیراب کر رہے تھے۔ ونود کی موت ہو گئی، جبکہ ایک اور شخص شدید زخمی ہو گیا۔ اہل خانہ اور عینی شاہدین کا الزام ہے کہ بڑی تعداد میں لوگ جائے وقوعہ پر پہنچے اور ان پر حملہ کیا۔ واقعے کے بعد گاو¿ں والوں نے احتجاج شروع کر دیا اور ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔اس معاملے کے بارے میں وزیر اعلیٰ دھامی نے کہا کہ امن اور ہم آہنگی کو خراب کرنے والوں کو بخشا نہیں جائے گا۔ دیو بھومی کے امن کو خراب کرنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ اس واقعہ پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اتراکھنڈ کے امن اور سماجی ہم آہنگی کو بگاڑنے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ قانون کو چیلنج کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

اس واقعے کے خلاف اتوار کو گاو¿ں والوں اور مختلف ہندو تنظیموں کے کارکنان کی ایک بڑی تعداد جائے وقوعہ پر جمع ہوئی۔ پولیس کی بھاری نفری اور پی اے سی اہلکاروں کو علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔ علاقے میں کشیدگی کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور ملوث افراد کی شناخت اور جھگڑے کی وجہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے۔ انتظامیہ نے مرکزی ملزم کے گھر کو بھی بلڈوز کر دیا۔ پولیس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور علاقے میں امن برقرار رکھنے کی اپیل کی گئی ہے۔ مقامی ایم ایل اے منا سنگھ چوہان بھی جائے وقوعہ پر پہنچے اور پولیس حکام سے مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی اپیل کی۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کی غیر جانبداری سے تفتیش کی جا رہی ہے اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ صورتحال فی الحال قابو میں ہے، حالانکہ احتیاط کے طور پر اضافی پولیس فورس تعینات کردی گئی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande