
حیدرآباد ، 14 جون (ہ س)۔
تاریخی عمارتیں اپنے عہد کے تہذیب، ثقافت، رواداری کی گواہ ہوتی ہیں۔ انہیں بلڈوزرس کے ذریعہ مسمارکرنا تہذیب اورتاریخ کومٹاد ینے کے مماثل ہے۔ ان خیالات کا اظہار مختلف مقررین نے کے این واصف کی تصاویراورغوث ارسلان کے خطاطی کی نمائش کی افتتاحی تقریب میں کیا۔ جس کا افتتاح ریاستی وزیراقلیتی بہبود محمد اظہرالدین نے کیا۔ ڈاکٹر اوصاف سعید آئی ایف ایس سابق سکریٹری وزارت خارجہ ہند،عامرعلی خان نیوزایڈیٹرروزنامہ سیاست مہمانان خصوصی تھے۔ ممتازآرکیٹیکٹ وشوناتھ اورفضل الرحمن خرم ،ایم اے ماجد اسٹیج پرموجود تھے۔ محمداظہرالدین نے کے این واصف کے کیمرے سے ہندوستان کے مختلف شہروں کی تاریخی عمارتوں کی تصاویراورغوث ارسلان کے مختلف خطاطی میں قرآنی آیات اورغالب، اقبال،مولانا رومی کی اردواورفارسی اشعارکوخطاطی کے پیش کئے جانے پر خراج تحسین پیش کیا۔ ڈاکٹراوصاف سعید نے دونوں فنکاروں کی اپنے فن سے جنون کی حد تک محبت تصاویرکے ذریعے تاریخ اورخطاطی کے ذریعے رسم الخط کے تحفظ کی کوششوں کوسراہا۔جس نے تاریخ، تہذیب اور ثقافت کے تحفظ اور نئی نسل تک پہنچانے میں اہم رول ادا کیا۔ انہوں نے یاددلایا کہ جب وہ شکاگومیں کونسل جنرل تھے تب عظمت حیدرآباد کے عنوان سے ایک نمائش کا اہتمام کیا گیاتھاجس میں سیاست کی جانب سے کئے گئے خطاطی کے نمونوں کی نمائش کی گئی تھی۔عامرعلی خان نے کہا کہ جب کسی قوم کوبرباد کرنا ہوتا ہے تو اس کی زبان اورتہذیب کوتباہ کیاجاتا ہے۔ انہوں نے موجودہ حالات کے پس منظرمیں کہا کہ ایسی کوششیں کی جارہی ہیں تاہم وہ مایوس نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح سے کے این واصف اورغوث ارسلان نے تصاویراورخطاطی کے نمونوں کے ذریعے تاریخی سفرکوبیان کیا،اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تہذیب اور زبان دونوں زندہ ہے اور رہیں گے۔انہوں نے دونوں فنکاروں کومشورہ دیاکہ وہ ٹرسٹ قائم کریں تاکہ ان کے بعد بھی ان کا مشن جاری رہے۔وشوناتھ آرکیٹیکٹ نے قطب شاہی، مغلیہ، کاکتیہ، فن تعمیر کاجائزہ پیش کیا۔ایم ماجد صدر تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس فیڈریشن نے خیر مقدم کیا اور اس بات پر تاسف کا اظہار کیا کہ چند دنوں میں بے شمار تاریخی عمارتیں بلڈوزر کے ذریعے زمین دوز کی جاچکی ہیں۔ جناب کے این واصف نے فوٹو جرنلسٹ کی حیثیت سے اپنے طویل کیرئیرپرروشنی ڈالی اوربتایا کہ انہوں نے ہندوستان کے مختلف علاقوں کا دورہ کرکے تصاویر لی ہیں، جو ان کا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کا سرمایہ ہے۔ انہوں نے جناب حامد انصاری (سابق صدر جمہوریہ و سفیر) اورڈاکٹراوصاف سعید سے اظہارتشکر کیا، جن کی حوصلہ افزائی نے انہیں تصاویر کی نمائش کی ترغیب دی۔۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق