امریکہ اور ایران تعطل کو حل کرنے میں ناکام, پاکستان کو 24 گھنٹوں میں معجزے کی امید , مشہد میں معاہدے کے خلاف احتجاج
واشنگٹن/تہران، 14 جون (ہ س)۔ امریکہ اور تہران کے درمیان امن معاہدہ بے حد نازک موڑ پر اٹک گیا ہے۔ تمام دعووں کے باوجود ایران آج (اتوار) اس پر دستخط کرنے کو تیار نہیں۔ البتہ صرف پاکستان جیسے ثالث کو ضرور لگ رہا ہے کہ 24 گھنٹے کے اندر دونوں ممالک کسی
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پر اے آئی سے بنی ایک تصویر شیئر کی ہے۔ اس میں انہیں جنگی جہازوں اور جیٹ طیاروں کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔ اس کے تعارف میں لکھا گیا ہے کہ آپ پریشان ہو رہے ہیں۔ گلف نیوز نے اپنی رپورٹ کے ساتھ اس تصویر کو بھی اہمیت دی ہے۔


واشنگٹن/تہران، 14 جون (ہ س)۔ امریکہ اور تہران کے درمیان امن معاہدہ بے حد نازک موڑ پر اٹک گیا ہے۔ تمام دعووں کے باوجود ایران آج (اتوار) اس پر دستخط کرنے کو تیار نہیں۔ البتہ صرف پاکستان جیسے ثالث کو ضرور لگ رہا ہے کہ 24 گھنٹے کے اندر دونوں ممالک کسی اچھے نتیجے پر پہنچ جائیں گے اور آبنائے ہرمز پھر پرانی صورتِ حال میں لوٹ آئے گا۔ ایران کی فوجی قیادت ٹھیک اس کے برعکس دعویٰ کر رہی ہے۔ ہونے والے امن معاہدے کی ایران میں لوگ مخالفت کر رہے ہیں۔ مشہد شہر کی سڑکوں پر مظاہرین نے ہنگامہ برپا کر رکھا ہے۔

گلف نیوز، شینہوا، الجزیرہ اور سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے شمال-مشرقی شہر مشہد میں ہفتے کے روز وزارتِ خارجہ کے دفتر کے باہر درجنوں لوگوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ انہوں نے چوٹی کے سفارت کار عباس عراقچی کے خلاف نعرے لگائے۔ ایک ویڈیو میں ان خواتین کو سیاہ چادر (برقع) پہنے وزارتِ خارجہ کی عمارت کے سامنے سرخ اور سیاہ جھنڈے لہراتے اور ’’بے عزت عراقچی، درانداز کی موت ہو‘‘ کے نعرے لگاتے دیکھا گیا۔ ایران کے بنیاد پرست رہنماوں نے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ثالث پاکستان کی جانب سے مشترکہ طور پر مشتہر کیے گئے امن معاہدے کی مخالفت کرنا شروع کر دی ہے۔

ایرانی بنیاد پرست رہنماوں کا استدلال ہے کہ یہ معاہدہ ملک کے مفادات کے مطابق نہیں ہے۔ اس سے تہران کی آبنائے ہرمز پر پکڑ ڈھیلی پڑ جائے گی۔ آبنائے ہرمز میں حالیہ جھڑپوں کے بعد مشتہر کی گئی امن تجویز نے متحارب فریقوں اور ان کے ثالثوں کی امیدیں بڑھا دی ہیں۔ ٹرمپ نے ہفتے کے روز ٹروتھ سوشل پر کہا، ’’معاہدے پر کل دستخط ہونے ہیں اور دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمز سب کے لیے کھل جائے گا۔‘‘ حالانکہ اس سے کچھ وقت پہلے ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا تھا کہ معاہدے پر دستخط کی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ لیکن ’’یہ کل (اتوار) نہیں ہوگا‘‘۔ بقائی نے مانا کہ آنے والے دنوں میں ایسا ہونے کے امکان سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

امریکہ-ایران کے درمیان اہم ثالث پاکستان کے رہنما نے بھی کہا کہ معاہدہ ’’پہلے سے کہیں زیادہ‘‘ قریب ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا، ’’اگلے 24 گھنٹوں میں اس کے حتمی شکل اختیار کرنے کی امید ہے اور پاکستان اس کے فوراً بعد امن معاہدے پر الیکٹرانک دستخط کی تیاری کر رہا ہے، جس کے بعد اگلے ہفتے تکنیکی سطح کی بات چیت شروع ہو سکے۔‘‘ پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے تو یہاں تک کہا کہ دستخط اتوار کو ہونے ہیں۔

تہران نے کہا ہے کہ فی الحال وہ آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے گا۔ قابلِ ذکر ہے کہ ایران نے یہاں پر ٹول وصول کرنے کے لیے ایک نئی تنظیم بنائی ہے۔ اس کے جواب میں ہی امریکہ نے تمام ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کی ہے۔ امن معاہدے کی پیش رفت سے پہلے ہفتے کی صبح سویرے امریکی مرکزی کمان (سینٹ کام) نے کہا، ’’ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر کئی ون-وے اٹیک ڈرون لانچ کیے تھے۔ ان تمام کو امریکی فوج نے مار گرایا ہے۔‘‘

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی جمعہ کے روز سرکاری ٹیلی ویژن کو دیے گئے انٹرویو میں اس مجوزہ معاہدے کا ذکر کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت امریکی بحریہ کی ناکہ بندی ہٹے گی مگر ہمارے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام پہلے جیسا نہیں رہے گا۔ ٹرمپ اس امن معاہدے سے کافی پرامید ہیں۔ وہ ہفتے کے روز ٹروتھ سوشل پر کہہ چکے ہیں کہ امریکہ ایران کو جوہری طاقت نہیں بننے دے گا۔ انہوں نے کہا، ’’جب سب کچھ پرسکون ہو جائے گا، تو ہم اندر جائیں گے اور جوہری مواد کو نکالیں گے اور اسے تباہ کر دیں گے۔‘‘

اس دوران ایک پبلک میری ٹائم ریڈیو چینل کی آڈیو ریکارڈنگ سے ہرمز میں خطرے کی لہریں اٹھنے لگی ہیں۔ اس میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ کے حوالے سے جہازوں کو اس آبی گزرگاہ سے گزرنے پر انتباہ دیا گیا ہے۔ اس انتباہ میں عرب کی خلیج اور عمان کی خلیج میں چل رہے تمام جہازوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا کہ ہرمز کو پوری طرح سے بند کر دیا گیا ہے۔ کوئی اس میں داخل نہ ہو۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ اتوار کو امریکہ کے ساتھ کسی معاہدے پر دستخط ہوں گے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی باتوں کی تردید کی۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے ٹیلی گرام پر جاری بیان میں کہا کہ مجوزہ معاہدے کی تاریخ کا تعلق 14 جون کو ٹرمپ کی سالگرہ سے ہو سکتا ہے، اس لیے ایسا کہا جا رہا ہے۔ اس لمحے کو کسی سفارتی کامیابی کے بجائے پبلسٹی پانے والا لمحہ نہیں بننے دیا جائے گا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande