
تہران/اسلام آباد، امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کے بارے میں مثبت اشارے ملے ہیں، لیکن اس کی رسمی نوعیت اور ٹائم لائن کے بارے میں مختلف دعوے کیے گئے ہیں۔ پاکستان اور ایران کے حکام، جو مذاکرات کے عمل میں ثالث ہیں، نے معاہدے کے امکان کی امید ظاہرکی ہے لیکن اس کو حتمی شکل دینے کے وقت پر اختلاف ہے۔
پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے ایک سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا کہ دونوں فریق پہلے سے کہیں زیادہ امن معاہدے کے قریب ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کسی بھی اہم پیش رفت یا معاہدے کو اگلے 24 گھنٹوں میں حتمی شکل دی جا سکتی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل باگھائی نے اشارہ دیا کہ معاہدے کے لیے مذاکرات جاری ہیں، لیکن فوری طور پر کسی فریم ورک پر دستخط کا امکان نہیں ہے۔ ان کے بیان سے یہ واضح ہو گیا کہ ایسا لگتا ہے کہ ایران جلد بازی میں کسی نتیجے کے حق میں نہیں ہے۔
وہیں، خطے میں سلامتی کے خدشات بھی برقرار ہیں۔ عمان کے ساحل پر ایک بین الاقوامی تیل کے ٹینکر پر نامعلوم میزائل یا ڈرون سے حملہ ہوا ہے، جس سے سمندری خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ یہ راحت کی بات ہے کہ جہاز میں سوار تمام عملہ محفوظ ہے اور کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا ہے۔
ادھر ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی آخری رسومات کی تیاریوں کا بھی اعلان کر دیا گیا ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق جنازے کی تقریب 4, جولائی کو شروع ہوگی جبکہ تدفین کا عمل 9جولائی کو مشہد میں اختتام پذیر ہوگا۔
سفارتی محاذ پر ایران کے نائب وزیر خارجہ قاسم غریب آبادی نے تہران میں روس اور چین کے سفیروں سے ملاقات کی۔ اجلاس میں امریکہ کے ساتھ مجوزہ معاہدے اور علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی