چین نے امریکہ پر شی -ٹرمپ معاہدوں کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا
بیجنگ، 13 جون (ہ س)۔ چین نے آج امریکہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان حالیہ معاہدے کے باوجود بغیر کسی معقول وجہ کے چینی کمپنیوں پر دباو¿ ڈال رہا ہے۔چین کی وزارت تجارت نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا کہ ام
چین نے امریکہ پر شی -ٹرمپ معاہدوں کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا


بیجنگ، 13 جون (ہ س)۔ چین نے آج امریکہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان حالیہ معاہدے کے باوجود بغیر کسی معقول وجہ کے چینی کمپنیوں پر دباو¿ ڈال رہا ہے۔چین کی وزارت تجارت نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا کہ امریکی حکام بیجنگ میں دونوں سربراہان مملکت کے درمیان ہونے والی ملاقات میں طے پانے والے معاہدوں کو نظر انداز کر رہے ہیں اور چینی کمپنیوں پر دباو¿ ڈال رہے ہیں۔ وزارت نے کہا،’امریکہ بیجنگ میں ہونے والی میٹنگ میں دونوں سربراہان مملکت کے درمیان طے پانے والے معاہدوں اور چین امریکہ تجارتی اور اقتصادی تعلقات کی مجموعی صورتحال کو نظر انداز کرتے ہوئے چینی کمپنیوں پر غیر معقول دباو¿ ڈال رہا ہے۔پیر کے روز پینٹاگون نے اعلان کیا کہ 180 سے زائد کمپنیوں کو ان تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے جن کا تعلق امریکہ کے مطابق چینی فوجی صنعتی کمپلیکس سے ہے۔بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بیجنگ اس معاملے پر سخت احتجاج کرتا ہے اور واشنگٹن سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ’اس غلط عمل کو روکے‘۔ دوسری صورت میں، چین یقینی طور پر فیصلہ کن اور مو¿ثر جوابی اقدامات کرے گا، اور امریکی فریق اس کے نتائج کی پوری ذمہ داری اٹھائے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 13-15 مئی کو چین کا سرکاری دورہ کیا جہاں انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ سے بات چیت کی۔ دونوں رہنماو¿ں کی موجودگی میں کئی معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande