
پٹنہ، 14 جون (ہ س)۔ بہار پولس پرہیبیشن ڈپارٹمنٹ بھرتی امتحان میں شرکت کرنے والے امیدواروں کی وجہ سے پٹنہ کے پاٹلی پترا ریلوے اسٹیشن پر ہنگامہ آرائی، پتھراؤ اور توڑ پھوڑ کے معاملے میں پولیس نے فوری کارروائی کی ہے۔ واقعے میں ملوث تقریباً 500 نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی گئی ہے۔ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ ہنگامہ آرائی میں ملوث کسی کو بھی نہیں بخشا جائے گا اور جن کی نشاندہی کی گئی ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
پٹنہ رینج کے زونل ریلوے انسپکٹر جنرل جتیندر رانا نے بتایا کہ اب تک چھ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اسٹیشن احاطے میں اور اس کے آس پاس نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کی اچھی طرح جانچ کی جارہی ہے۔ ویڈیو ریکارڈنگ اور دیگر تکنیکی شواہد کی بنیاد پر شرپسندوں کی شناخت اور گرفتاری کا عمل جاری ہے۔
واقعے کے بعد ریلوے اسٹیشن اور اس کے اطراف میں سیکیورٹی کے انتظامات سخت کردیے گئے ہیں۔ ریلوے پروٹیکشن فورس (آرپی ایف)، جی آر پی اور ضلع پولیس کے اضافی دستے تعینات کیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق اب صورتحال قابو میں ہے اور مظاہرین کو ریلوے ٹریک سے ہٹانے کے بعد ٹرین آپریشن معمول پر آ گیا ہے۔
بہار پولیس پرہیبیشن ڈپارٹمنٹ بھرتی امتحان میں شرکت کے لیے مختلف اضلاع سے امیدواروں کی ایک بڑی تعداد پٹنہ پہنچی تھی۔ امیدواروں نے الزام لگایا کہ امتحان مراکز تک پہنچنے کے لیے مناسب ٹرین خدمات دستیاب نہیں ہیں اور کئی ٹرینیں مقررہ وقت سے کافی تاخیر سے چل رہی ہیں۔ اس کے علاو ہ ٹرینوں میں زیادہ بھیڑ ہونے کی وجہ سے مسافروں کو کافی تکلیف ہوئی۔
مشتعل امیدواروں نے پاٹلی پترا ریلوے اسٹیشن پر احتجاج کرنا شروع کردیا۔ احتجاج تیزی سے بڑھ گیا، اور مشتعل ہجوم نے ریلوے ٹریک جام کر دیا۔ کچھ امیدواروں نے امتحان اسپیشل ٹرین کے سامنے احتجاج ودھرنا بھی دیا، جس سے ٹرین کی کارروائیوں میں خلل پڑا۔
صورتحال اس وقت مزید خراب ہوگئی جب احتجاجی ہجوم نے ریلوے اسٹیشن کے احاطے، ٹرینوں اور آس پاس کی دکانوں میں توڑ پھوڑ شروع کردی۔ پولیس اور ریلوے اہلکاروں پر بھی پتھراؤ کیا جس سے کئی گاڑیوں اور عوامی املاک کو نقصان پہنچا۔ریلوے انسپکٹر جنرل جتیندر رانا اور تھانہ انچارج پتھراؤ کے واقعہ میں زخمی ہونے والے تقریباً چھ پولیس افسران میں شامل ہیں۔ زخمی اہلکاروں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ تمام افراد کی حالت خطرے سے باہر ہے۔حالات قابو سے باہر ہوتے ہی پولیس نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا سہارا لیا۔ شروع میں انہوں نے مظاہرین کو منانے کی کوشش کی لیکن جب حالات قابو سے باہر ہو گئے تو انہوں نے لاٹھی چارج کا سہارا لیا۔ ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے بھی چھوڑے اور ہوا ئی فائرنگ بھی کئے۔
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan